بسنت کی واپسی: خوشیوں کی بہار یا خطرات کا نیا موسم؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پچیس سال بعد پنجاب حکومت نے بسنت اور پتنگ بازی کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ اعلان سنتے ہی لاہور کی فضا جیسے ایک پرانی یاد سے بھرگئی، گلیوں میں شور، چھتوں پر رنگ اور بہار کے استقبال کا وہ مخصوص جوش۔ مگر اس خوشی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے... وہ سب حادثات، زخمی بچے، کٹے گلے، اور بے شمار جانیں، جن کی وجہ سے یہ کھیل پابندی تک جا پہنچا تھا۔
حکومت نے اس بار بڑے دعوے کیے ہیں۔ ’’صرف سوتی ڈور‘‘ چلے گی، ہر پتنگ اور ڈور پر کیو آر کوڈ ہوگا، دکاندار سے لے کر بنانے والے تک سب کی رجسٹریشن لازمی۔ دھاتی یا کیمیکل ڈور بنانے اور بیچنے والوں کے لیے تین سے پانچ سال قید اور بھاری جرمانے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے پتنگ اُڑانے پر پابندی، خلاف ورزی پر والدین کو جرمانہ۔ کاغذ اور فریم کے سائز تک ضابطے میں۔ وغیرہ وغیرہ۔
کاغذ پر یہ سب کافی مضبوط لگتا ہے۔ مگر سوال وہی پرانا ہے کہ کاغذ کے ضابطے چھتوں پر اُڑتی پتنگ کو واقعی کنٹرول کرسکتے ہیں؟
اس ملک میں قانون لکھنے والوں کا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ قانون بنتا ہے، عملدرآمد کہیں ہوا نظر نہیں آتا۔ ’’انسداد پتنگ بازی ایکٹ‘‘ بھی لاکھوں گرفتاریوں اور ہزاروں ضبطی کارروائیوں کے باوجود کاغذ ہی میں رہا۔ پتنگیں ضبط ہوئیں، بچے پکڑے گئے، مگر ’’قاتل ڈور‘‘ بنانے والوں پر ہاتھ ڈالنے کی باری کبھی نہیں آئی۔ بازار میں مال آسانی سے دستیاب رہا، اور اوپر کہیں نہ کہیں ’’اوپری کمائی‘‘ کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔
پتنگ کٹنے پر ’’بوکاٹا‘‘ کی آوازیں لگانے والے، انسانی گلا کٹنے پر خاموش رہے۔
یہ تضاد پاکستانی معاشرے کا اصل المیہ ہے۔ عملاً حادثات روکے نہیں گئے۔ فیصل آباد سے لاہور تک درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے، بائیک چلانے والے گلے پر ڈور لگنے سے زخمی، بعض مستقل معذور، بعض کی جان تک چلی گئی۔ حکومت پابندی لگاتی رہی، عوام قانون توڑتے رہے، اور درمیان میں اعداد و شمار بڑھتے گئے۔
اس بار بھی حکومت ایک بڑے جشن کا اشارہ دے رہی ہے۔ بسنت کو ’’ثقافتی میل‘‘ کا درجہ مل چکا ہے۔ سیاحتی آمدنی، کاروبار، میڈیا کوریج، سب کچھ۔ لیکن اگر ہیلمٹ پر حفاظتی راڈ نہ ہو، اگر ڈور کی پیمائش نہ چیک ہوئی، اگر چھتوں پر اندھا دھند مقابلے شروع ہوئے، تو کیا پھر وہی کہانی نہیں دہرائی جائے گی؟
اصل خطرہ پتنگ نہیں ہے۔ خطرہ وہ ’’منافقت‘‘ ہے جس میں سستی شہرت، مقابلے کی ضد، غیر قانونی ڈور اور لاپرواہی شامل ہیں۔ پتنگ تو ایک کاغذ ہے۔ جان اس وقت جاتی ہے جب شوق عقل سے تجاوز کر جائے۔
حکومت کہتی ہے کہ اس بار سب کچھ ریگولیٹڈ ہوگا۔ مگر عملدرآمد صرف بیانوں سے نہیں ہوتا۔ پنجاب میں قانون کاغذ پر ہمیشہ مضبوط رہا، مگر گلی میں کمزور۔ یہی وجہ ہے کہ بسنت پر تنقید بھی ضروری ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو.
یہ بھی حقیقت ہے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم معاشرہ زیادہ تلخ ہوتا ہے۔ شاید بسنت کی واپسی لوگوں کو کچھ رنگ، کچھ تفریح واپس دے۔ مگر کھیل، کھیل رہنا چاہیے، کسی کا سوگ نہیں بننا چاہیے۔
بہت سال پہلے بسنت لاہور کی پہچان تھی۔ نیلے آسمان پر پیلے، نیلے، گلابی رنگ لہراتے تھے۔ چھتوں پر ہنسی تھی، گلیوں میں دوڑتے قدم تھے۔ اب ڈر یہ ہے کہ کہیں اس ہنسی میں پھر چیخیں شامل نہ ہوجائیں۔ اگر حکومت صرف اجازت دے کر خاموش بیٹھ گئی، اگر ضابطے صرف اشتہار تک رہے، تو پھر ’’بہار کے انتظار‘‘ میں شہر دوبارہ خون سے نہ بھر جائے۔ بسنت کو واپس لانا شاید آسان ہے۔ مگر بسنت کو محفوظ رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔
وقت بتائے گا کہ یہ فیصلہ جشن کی بہار لایا یا خطرات کی ہوا۔ ابھی کےلیے ایک ہی دعا کی جا سکتی ہے کہ پتنگیں آسمان میں اُڑیں، اور انسان سلامت رہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چھتوں پر
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔