Express News:
2026-07-24@03:05:40 GMT

بسنت کی واپسی: خوشیوں کی بہار یا خطرات کا نیا موسم؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT

پچیس سال بعد پنجاب حکومت نے بسنت اور پتنگ بازی کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ اعلان سنتے ہی لاہور کی فضا جیسے ایک پرانی یاد سے بھرگئی، گلیوں میں شور، چھتوں پر رنگ اور بہار کے استقبال کا وہ مخصوص جوش۔ مگر اس خوشی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے... وہ سب حادثات، زخمی بچے، کٹے گلے، اور بے شمار جانیں، جن کی وجہ سے یہ کھیل پابندی تک جا پہنچا تھا۔

حکومت نے اس بار بڑے دعوے کیے ہیں۔ ’’صرف سوتی ڈور‘‘ چلے گی، ہر پتنگ اور ڈور پر کیو آر کوڈ ہوگا، دکاندار سے لے کر بنانے والے تک سب کی رجسٹریشن لازمی۔ دھاتی یا کیمیکل ڈور بنانے اور بیچنے والوں کے لیے تین سے پانچ سال قید اور بھاری جرمانے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے پتنگ اُڑانے پر پابندی، خلاف ورزی پر والدین کو جرمانہ۔ کاغذ اور فریم کے سائز تک ضابطے میں۔ وغیرہ وغیرہ۔

کاغذ پر یہ سب کافی مضبوط لگتا ہے۔ مگر سوال وہی پرانا ہے کہ کاغذ کے ضابطے چھتوں پر اُڑتی پتنگ کو واقعی کنٹرول کرسکتے ہیں؟

اس ملک میں قانون لکھنے والوں کا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ قانون بنتا ہے، عملدرآمد کہیں ہوا نظر نہیں آتا۔ ’’انسداد پتنگ بازی ایکٹ‘‘ بھی لاکھوں گرفتاریوں اور ہزاروں ضبطی کارروائیوں کے باوجود کاغذ ہی میں رہا۔ پتنگیں ضبط ہوئیں، بچے پکڑے گئے، مگر ’’قاتل ڈور‘‘ بنانے والوں پر ہاتھ ڈالنے کی باری کبھی نہیں آئی۔ بازار میں مال آسانی سے دستیاب رہا، اور اوپر کہیں نہ کہیں ’’اوپری کمائی‘‘ کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔

پتنگ کٹنے پر ’’بوکاٹا‘‘ کی آوازیں لگانے والے، انسانی گلا کٹنے پر خاموش رہے۔

یہ تضاد پاکستانی معاشرے کا اصل المیہ ہے۔ عملاً حادثات روکے نہیں گئے۔ فیصل آباد سے لاہور تک درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے، بائیک چلانے والے گلے پر ڈور لگنے سے زخمی، بعض مستقل معذور، بعض کی جان تک چلی گئی۔ حکومت پابندی لگاتی رہی، عوام قانون توڑتے رہے، اور درمیان میں اعداد و شمار بڑھتے گئے۔

اس بار بھی حکومت ایک بڑے جشن کا اشارہ دے رہی ہے۔ بسنت کو ’’ثقافتی میل‘‘ کا درجہ مل چکا ہے۔ سیاحتی آمدنی، کاروبار، میڈیا کوریج، سب کچھ۔ لیکن اگر ہیلمٹ پر حفاظتی راڈ نہ ہو، اگر ڈور کی پیمائش نہ چیک ہوئی، اگر چھتوں پر اندھا دھند مقابلے شروع ہوئے، تو کیا پھر وہی کہانی نہیں دہرائی جائے گی؟

اصل خطرہ پتنگ نہیں ہے۔ خطرہ وہ ’’منافقت‘‘ ہے جس میں سستی شہرت، مقابلے کی ضد، غیر قانونی ڈور اور لاپرواہی شامل ہیں۔ پتنگ تو ایک کاغذ ہے۔ جان اس وقت جاتی ہے جب شوق عقل سے تجاوز کر جائے۔

حکومت کہتی ہے کہ اس بار سب کچھ ریگولیٹڈ ہوگا۔ مگر عملدرآمد صرف بیانوں سے نہیں ہوتا۔ پنجاب میں قانون کاغذ پر ہمیشہ مضبوط رہا، مگر گلی میں کمزور۔ یہی وجہ ہے کہ بسنت پر تنقید بھی ضروری ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو.

.. دھاتی یا کیمیکل ڈور بنانے والوں کے خلاف اصل کارروائی ہو، پولیس چھتوں پر دوڑتے بچوں کے بجائے مینوفیکچرنگ نیٹ ورک پکڑے، پتنگ بازی کےلیے مخصوص اور محفوظ مقامات مختص ہوں، موٹرسائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ اور ماسک ضروری ہوں، مانیٹرنگ ٹیمیں صرف کاغذی نہ ہوں بلکہ میدان میں نظر آئیں۔ ورنہ تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگاتی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم معاشرہ زیادہ تلخ ہوتا ہے۔ شاید بسنت کی واپسی لوگوں کو کچھ رنگ، کچھ تفریح واپس دے۔ مگر کھیل، کھیل رہنا چاہیے، کسی کا سوگ نہیں بننا چاہیے۔

بہت سال پہلے بسنت لاہور کی پہچان تھی۔ نیلے آسمان پر پیلے، نیلے، گلابی رنگ لہراتے تھے۔ چھتوں پر ہنسی تھی، گلیوں میں دوڑتے قدم تھے۔ اب ڈر یہ ہے کہ کہیں اس ہنسی میں پھر چیخیں شامل نہ ہوجائیں۔ اگر حکومت صرف اجازت دے کر خاموش بیٹھ گئی، اگر ضابطے صرف اشتہار تک رہے، تو پھر ’’بہار کے انتظار‘‘ میں شہر دوبارہ خون سے نہ بھر جائے۔ بسنت کو واپس لانا شاید آسان ہے۔ مگر بسنت کو محفوظ رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔

وقت بتائے گا کہ یہ فیصلہ جشن کی بہار لایا یا خطرات کی ہوا۔ ابھی کےلیے ایک ہی دعا کی جا سکتی ہے کہ پتنگیں آسمان میں اُڑیں، اور انسان سلامت رہیں۔

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چھتوں پر

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف