حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی مشروط اجازت، اسمبلی میں ملا جلا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
عثمان خادم:حکومت پنجاب نے تہوار کے موقع پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت دے دی ہے، جس پر پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
اراکینِ اسمبلی نے اس موقع پر حفاظتی ایس او پیز کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا اور تہوار کو محفوظ بنانے کے اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
حکومت پنجاب نے لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں تہوار کے دوران پتنگ بازی کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے پر پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین نے مختلف رائے کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک
علی حیدر گیلانی نے کہا کہ پتنگ بازی ہماری ثقافت کا حصہ ہے، تاہم ایس او پیز پر عمل ضروری ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ رانا ارشد نے حکومت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ فول پروف انتظامات کیے جائیں گے تاکہ تہوار خوشگوار اور محفوظ ہو۔
رانا احمد شہریار نے کہا کہ تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ ناگزیر ہے، جبکہ فرخ جاوید مون نے اس بات پر زور دیا کہ ایس او پیز کے بغیر محفوظ پتنگ بازی ممکن نہیں۔
دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
کئی اراکین نے کہا کہ تہوار بحال ہونا خوش آئند ہے، مگر انسانی جانوں سے کھیلنا ہرگز قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوام حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور صرف مخصوص علاقوں میں پتنگ بازی کریں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے, اس فیصلے کے بعد تہوار کی رونق برقرار رہنے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں، تاہم حفاظتی اقدامات پر خاص توجہ دی جائے گی۔
وائلیشن کے عادی گروہ نے ٹریفک پولیس کے چالانوں سے بچنے کے لئے ہڑتال کی سنگین دھمکی دے دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔