عثمان خادم:حکومت پنجاب نے تہوار کے موقع پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت دے دی ہے، جس پر پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

 اراکینِ اسمبلی نے اس موقع پر حفاظتی ایس او پیز کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا اور تہوار کو محفوظ بنانے کے اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

حکومت پنجاب نے لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں تہوار کے دوران پتنگ بازی کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے پر پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین نے مختلف رائے کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک

علی حیدر گیلانی نے کہا کہ پتنگ بازی ہماری ثقافت کا حصہ ہے، تاہم ایس او پیز پر عمل ضروری ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ رانا ارشد نے حکومت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ فول پروف انتظامات کیے جائیں گے تاکہ تہوار خوشگوار اور محفوظ ہو۔

رانا احمد شہریار نے کہا کہ تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ ناگزیر ہے، جبکہ فرخ جاوید مون نے اس بات پر زور دیا کہ ایس او پیز کے بغیر محفوظ پتنگ بازی ممکن نہیں۔

دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری

کئی اراکین نے کہا کہ تہوار بحال ہونا خوش آئند ہے، مگر انسانی جانوں سے کھیلنا ہرگز قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عوام حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور صرف مخصوص علاقوں میں پتنگ بازی کریں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے, اس فیصلے کے بعد تہوار کی رونق برقرار رہنے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں، تاہم حفاظتی اقدامات پر خاص توجہ دی جائے گی۔

وائلیشن کے عادی گروہ نے ٹریفک پولیس کے چالانوں سے بچنے کے لئے ہڑتال کی سنگین دھمکی دے دی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن