پنجاب حکومت نے 25 برس بعد پتنگ بازی کی اجازت دے دی، آرڈیننس جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
فائل فوٹو
پنجاب حکومت نے 25 برس بعد پتنگ بازی کی اجازت دیدی، بسنت منانے کی مشروط اجازت کا آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے، خلاف ورزی پر والد یا سرپرست ذمہ دار ہوگا۔
جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق 18سال سے کم عمر بچوں کے قانون کی پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار جبکہ دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
پنجاب اسمبلی نے پتنگ بازی پر مکمل پابندی کا بل منظور کرلیا ہے، جس کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائے دی جائے گی۔
آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ عدم ادائیگی جرمانہ پر والد یا سرپرست کے خلاف کارروائی عمل میں آئے گی، پتنگیں رجسٹرڈ دکانداروں سے ہی خریدی جاسکیں گی۔
جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق صرف دھاگے سے بنی ڈور سے ہی پتنگ بازی کی اجازت ہوگی، دھاتی یا تیز دھار مانجھے سے بنی ڈور کے استعمال پر کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔
آرڈیننس کے مطابق ہر موٹرسائیکل متعین کردہ حفاظتی تدابیر کے مطابق چلائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ا رڈیننس کے مطابق پتنگ بازی خلاف ورزی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔