خودکش حملہ آور کو عدالت میں جانے کا موقع نہیں ملا تو اس نے پولیس وین پر حملہ کیا: وزیرِ داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وزیرِ داخلہ محسن نقوی—فائل فوٹو
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کچہری میں پولیس کی چیکنگ بہت اچھی تھی، اس لیے اُس روز خود کش حملہ آور آدھا گھنٹہ باہر کھڑا رہا، خود کش حملہ آور کو اندر جانے کا موقع نہیں ملا تو اس نے پولیس وین پر حملہ کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بندہ وکیلوں کی وکالت کرتا ہے تو اس کا نام اعظم نذیر تارڑ ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں پرائم منسٹر کی میٹنگ یا کوئی اور ڈسکشن ہو، اعظم نذیر تارڑ ہر جگہ وکلاء کی بات کرتے ہیں۔
پارکنگ ایریا میں دھماکے سے آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اعظم نذیر تارڑ آپ لوگوں کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں، میں پولیس کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جی الیون سے متعلق آپ نے جو بات کی ہے، مجھے میرے چیئرمین نے صرف آرڈر کرنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کل سے ہی چیزوں کو پراسیس کر دیں گے، ہم بھی دھڑے والے لوگ ہیں اور ہمارا دھڑا احسن بھون والا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: داخلہ محسن نقوی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔