data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی : گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ملکی بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کمی واقع ہوئی ہے۔

میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں2022 کے بعد کوئی اضافہ نہیں ہوا، ڈیٹ ٹوجی ڈی پی ریشو 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک نیچے آ گیاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2015سے 2022 تک سالانہ اوسطاً6.

4ارب ڈالر قرضہ بڑھ رہا تھا، رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان خسارے میں رہے گا،درآمدات میں اضافے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ رواں سال ترسیلات زر40ارب ڈالر کا ہندسہ عبورکرجائیں گی، گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی تھیں، نومبر 24 سے اکتوبر 25 تک خواتین کو 50 ارب کی فنانسنگ کا ہدف تھا تاہم 230 ارب جاری کیے، ایس ایم ایز فنانسنگ گزشتہ سال 550 ارب روپے سے 700 ارب روپے تک بڑھ گئی۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ