ملکی بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کمی واقع ہوئی ہے؛ گورنر اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ملکی بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کمی واقع ہوئی ہے۔
میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں2022 کے بعد کوئی اضافہ نہیں ہوا، ڈیٹ ٹوجی ڈی پی ریشو 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک نیچے آ گیاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2015سے 2022 تک سالانہ اوسطاً6.
جمیل احمد نے بتایا کہ رواں سال ترسیلات زر40ارب ڈالر کا ہندسہ عبورکرجائیں گی، گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی تھیں، نومبر 24 سے اکتوبر 25 تک خواتین کو 50 ارب کی فنانسنگ کا ہدف تھا تاہم 230 ارب جاری کیے، ایس ایم ایز فنانسنگ گزشتہ سال 550 ارب روپے سے 700 ارب روپے تک بڑھ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔