ایران کیساتھ قابل اعتماد جوہری معاہدے کی ضرورت ہے، اطالوی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے اپنے ایک خطاب میں جارجیا ملونی کا کہنا تھا کہ اٹلی، خلیجی ممالک کیلئے یورپ میں داخلے کا دروازہ بن سکتا ہے، جس کیلئے علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اٹلی کی وزیراعظم "جارجیا ملونی" نے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں ایران کے ساتھ ایک قابل اعتماد جوہری معاہدے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دو ریاستی فارمولا کو مسئلہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں بحران کو ختم کرنے کا واحد حل قرار دیا۔ اس اطالوی سربراہ نے غزہ میں جنگ بندی کو نازک قرار دیا۔ انہوں نے خطے کے مسائل کے حل کے لئے امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" کے خود ساختہ امن منصوبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خلیجی ممالک اور بحیرہ روم کے ممالک کے مشترکہ اجلاس کی ضرورت ہے، جس کی میزبانی کے لئے اٹلی آمادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو اپنی سیاسی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ہمیں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تعمیری اور مربوط مکالمے منعقد کرنے چاہئیں۔ جارجیا ملونی نے بحیرہ روم اور خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کا نیا فارمیٹ بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کا حصول مشترکہ اجلاسوں کے ذریعے ممکن ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اٹلی، خلیجی ممالک کے لئے یورپ میں داخلے کا دروازہ بن سکتا ہے، جس کے لئے علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ جارجیا ملونی نے ان خیالات کا اظہار اس وقت کیا جب وہ آج "بحرین" کے دارالحکومت منامہ میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شریک تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جارجیا ملونی خلیجی ممالک کی ضرورت ہے تعاون کو کے لئے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔