سندھ کا صحت نیٹ ورک مثال بن گیا، وفاق کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیے،بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کراچی میں ایس آئی یو ٹی کے نئے یونٹ کا افتتاح کردیا، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ اسلام آباد تعلیم اور بہبودِ آبادی جیسے اختیارات دوبارہ اپنے پاس لانا چاہتا ہے، جو 18ویں ترمیم کی روح کے خلاف ہوگا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں بھی وفاق نے این آئی سی وی ڈی کو صوبے سے واپس لینے کی کوشش کی تھی، جو ایک غلط قدم تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے ایس آئی یو ٹی سمیت متعدد صحت کے اداروں کو جدید بنا کر عالمی معیار کا نیٹ ورک تشکیل دیا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے ایک پیپلز پارٹی ٹکٹ ہولڈر نے سندھ حکومت سے درخواست کی کہ صوبے میں دی جانے والی مفت طبی سہولیات پنجاب کے بعض علاقوں میں بھی فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس سلسلے میں وزیراعظم کو خط لکھا جس کی منظوری پر انہوں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
پی پی چیئرمین کے مطابق آج ایک فائیو اسٹار ہوٹل کو فائیو اسٹار ہیلتھ فیسلیٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کے ثمرات کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی یو ٹی کراچی کا لینڈ مارک ادارہ ہے جو ملک بھر کے مریضوں کی خدمت کر رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے اپنی حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی کو سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2022 تک ایس آئی یو ٹی کے ساتھ سندھ حکومت کی شراکت 6 ارب روپے تک تھی، جو اب بڑھ کر 21 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ کے باہر دیگر صوبوں میں بھی ایس آئی یو ٹی کی سہولیات توسیع دی جائیں گی، اور 2027 تک لاڑکانہ میں نئے ایس آئی یو ٹی یونٹ کا افتتاح کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس آئی یو ٹی بلاول بھٹو انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔