این ایف سی اور 18 ویں ترمیم کے ساتھ کھیلنے کی کوشش آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کراچی:
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو لوگ این ایف سی اور 18 ویں ترمیم کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا یہ اقدام آگ سے کھیلنے جیسا ہے۔
بلاول ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کے 58 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل جلسہ عام سے خطاب کیا اور انہوں نے ملک بھر کے 100 سے زائد شہروں میں بیک وقت منعقد تقریبات سے میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا اور اس موقع پر خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے آج ایک تاریخ رقم کردی ہے اور ملک کے ہر ضلعے میں منعقدہ یوم تاسیس کی تقریبات میں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سپاہی اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے بھائی اور بہنیں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی تاریخ ملک کے ماضی اور مستقبل سے جڑی ہوئی ہے اور قائد عوام نے ملک کو جمہوریت، 1973ع کا متفقہ آئین اور پسماندہ طبقات کو معاشی طور مضبوط کرنے کا فلسفہ دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے پہلے دور حکومت میں صوبہ خیبرپختونخوا کو اس کانام اور بلوچستان کو آغاز حقوق بلوچستان کی شکل میں صوبے کا حق دیا، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے اور این ایف سی کے اجرا کی شکل میں بھی تمام صوبوں کو ان کے حقوق دیے۔
حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح پر افواج پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے بھارت کے 7 جنگی جہاز گِرا کر پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کردیا اور اس حوالے سے حکومت اور اس کی خارجہ پالیسی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف اِس وقت بھی دشمن سازشیں کرنے میں مصروف ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے دشمن پاکستان کو ڈی اسٹبلائیز کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب بھارت پاکستان کی سرحد پر میلی آنکھ سے دیکھ رہا ہے، تو دوسری جانب افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں تلخیاں بڑھ رہی ہیں، ملک کو درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے دہشت گردی کی نئی لہر اور دشمن ممالک کی سازشوں کا ایک ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کو اس رخ میں لے جانا ہوگا کہ دشمن ہمارے اندرونی سیاسی اختلافات سے فائدہ نہ اٹھاسکے۔
چیئرمین پی پی پی نے 27 ویں آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ آئین سازی و قانون سازی میں اتفاق رائے پر یقین رکھتی ہے،آئینی عدالت کا قیام میثاق جمہوریت کا حصہ تھا، جس پر اٹھارویں ترمیم میں عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 27 ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کا قیام اور اس میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دی گئی ہے، جو پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابی ہے، آئینی عدالت کے ججوں پر اب بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کا عدلیہ کے متعلق اعتماد بحال رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو سیاسی عناصر پارلیمانی اقدام کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے لیے میرا پیغام ہے کہ آئین سازی پارلیمان کا اختیار ہے، یہ کسی جج یا عدلیہ کا اختیار نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون سی ترمیم ہوسکتی ہے اور کون سی نہیں، یہ اُن کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہم انہیں اس کی اجازت دیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں، 27 ویں ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت نے جب پیپلز پارٹی سے رجوع کیا تھا، تو اس میں آئینی عدالت کے قیام اور آرٹیکل 243 میں ترمیم کے علاوہ دیگر پوائنٹس بھی شامل تھے، جن میں ضلعی سطح پر میجسٹریسی نظام کی بحالی، تعلیمی نصاب کی تیاری کے اختیارات اور پاپولیشن کی روکتھام کے امور صوبوں سے واپس لینا، اور این ایف سی میں صوبوں کو حاصل آئینی تحفظ کا خاتمہ بھی شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے این ایف سی کے حوالے سے صوبوں کو حاصل آئینی تحفظ کو بچا لیا، اور اگر یہ ترمیم بھی منظور ہوتی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پنجاب کو ہوتا، پھر سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کو بھی ہوتا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر حکومت نے این ایف سی میں صوبوں کو حاصل آئینی تحفظ کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور قوی امکان ہے کہ وہ آئندہ پھر اسی مجوزہ ترمیم کو سامنے لے آئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کسی ترمیم یا اقدام کی حمایت نہیں کریں گے، جو وفاق کو کمزور کرے، ملک میں بہت ساری فالٹ لائینز موجود ہیں، جنہیں پیپلز پارٹی نے سیاسی، انتظامی اور معاشی اقدام کے ذریعے ایڈریس کیا اور وفاق کو مضبوط کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے این ایف سی کے ذریعے علیحدگی پسند سیاست کو دفن کردیا جو لوگ این ایف سی اور 18 ویں ترمیم کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو ان کا یہ اقدام ایسا ہے کہ جیسے آگ سے کھیلنا، ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی عمل داری قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پرو ایکٹو سافٹ پاور کا استعمال کرنا ہوگا، اس جنگ میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے کہا انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت ایف سی ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ترمیم کے پی پی پی کی کوشش کے ساتھ کے لیے اور اس ہے اور
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔