اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں: بلاول WhatsAppFacebookTwitter 0 30 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہیکہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں، پیپلز پارٹی ایسیکسی فیصلے میں ساتھ نہیں دے گی جس سے وفاق کمزور ہو۔ پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر ویڈیو لنک سے خطاب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نیکہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل جلسے سے خطاب کر رہاہوں،ہمارا معاشی فلسفہ ہے کہ پسماندہ طبقے کو معاشی طو ر پر مضبوط کرنا ہے، پاک بھارت جنگ کے بعد یہ ہمارا پہلا یوم تاسیس ہے، بھارت کے سات جہاز گرا کر ہماری ائیر فورس نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کردیا۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت سیاسی بحران ہے، اس کو ایڈریس کرکے مشکلات سے نکالنا ہے، پیپلزپارٹی نے حال ہی میں حکومت کے ساتھ مل کر ایک آئینی ترمیم پاس کرائی، پیپلزپارٹی جب خود آئینی ترمیم لے کر آتی ہے تو انقلابی قانون سازی کرتے ہیں، 1973 کے آئین کے بعدکسی ترمیم میں کوئی طاقت ہیتو وہ 18ویں ترمیم میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے ایک وفد بھیجا اور کہا کہ وہ آئینی ترمیم لے کر آنا چاہتے ہیں، حکومت چاہتی تھی کہ آئینی عدالت اور آرٹیکل 243 کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو مجسٹری کا نظام لے کر آئے، حکومت چاہتی تھی کہ جو آئینی تحفظ ہم نے صوبوں کو دلوایا تھا اس کو ختم کیا جائے، فخر سیکہہ سکتاہوں آپ کی وجہ سے اس آئینی تحفظ کو چھیڑا نہیں گیا، حکومت اس مطالبے سے پیچھے ہٹی، ہم نےآئینی عدالت بنا کر چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق پوری کردی اور صوبوں کو برابری کی نمائندگی دلوادی، یہ تاریخی کامیابی ہے، شاید کسی کو اس کا احساس نہ ہو۔

بلاول کا کہنا تھا کہ عدالت نے قائد عوام کا عدالتی قتل کروایا، ہماری عدالت کی تاریخ آپ کے سامنے ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ آئینی عدالت ملک کے بڑے مسئلیکو دیکھیگی، آئینی عدالت سے عام شہریوں کے ایشوز کو فوری طور پر ریلیف ملیگا، ماضی میں عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا، کچھ لوگوں کی کوشش ہیکہ آئینی عدالت کو متنازع بنائے، امید ہے آئینی عدالت اپنے کردار سے ان لوگوں کو غلط ثابت کردے گی۔

بلاول نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمان کا کام ہے، اگر کوئی کام اتفاق رائے سے کیا گیا ہو تو نظر ثانی کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے، ہم اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی اور ادارہ پارلیمان کے دائرے میں مداخلت کرے، تاریخ بھری پڑی ہے کہ دوسرے ادارے نے پارلیمان کے دائرے میں آکر مداخلت کی، عوام کا فیصلہ ہیکہ ہمارے فیصلے صحیح ہیں یا نہیں، عدالت کا اختیار نہیں، آئین سازی کرنا پارلیمان کا اختیار ہے۔

انہوں نیکہا کہ کارکن کسی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں، ہم نے آئینی عدالتیں بنائی ہیں، آپ کے حقوق کا تحفظ کرتا آرہا ہوں کرتا رہوں گا، پیپلزپارٹی ایسے کسی فیصلہ میں ساتھ نہیں دے گی جس سے وفاق کمزور ہو، اٹھارہویں ترمیم اوراین ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کا وزیرسندھ سے متعلق غلط بات کر رہا ہے، ملک کے تمام صوے بھائیوں کی طرح ہیں، مودی کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، متحد ہوکر دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، ملکی سلامتی کے لیے ہم سب کو متحد ہونا ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگردی جنگل کیمپ سے تمام 70 ہزار افغان مہاجرین کو افغانستان بھیج دیا گیا، خالی گھر مسمار کرنے کا عمل شروع گردی جنگل کیمپ سے تمام 70 ہزار افغان مہاجرین کو افغانستان بھیج دیا گیا، خالی گھر مسمار کرنے کا عمل شروع راستہ تبدیل نہیں ہوگا، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے: مولانا فضل الرحمان کے پی میں گورنر راج کے نفاذ پر غور،قیادت کون کرے گا؟مشاورت جاری انڈر 17 ایشین کپ کوالیفائر: پاکستان نے گوام کیخلاف تاریخی فتح حاصل کرلی قواعد نہ ہونے کے باوجود آئینی عدالت میں اعلی ترین تعیناتیوں کی منظوری، 8 سینئر عہدے تخلیق کر دیے گئے سی ڈی ایف کی تعیناتی کا عمل شروع،قیاس آرائیں بے بنیاد ہیں،وزیر دفاع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

آغا سراج درانی کی بیٹی کی پاکستان واپسی کی درخواست منظور، عدالت میں پیش ہونے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی مرحوم کی صاحبزادی کو پاکستان واپسی کی درخواست پر ان کی 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل آئینی بینچ کے روبرو سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی مرحوم کی صاحبزادی کی پاکستان واپسی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

نیب  اور سرکاری وکلاء کی جانب سے درخواست کی مخالفت کی گئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ درخواستگزار یا مفرور ملزم پاکستان واپس آئے۔ جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان آنے پر اسے احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے، پھر عدالت جو چاہے قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ ضمانت کیلیے آئینی بینچ سے کیوں رجوع کیا گیا، ریگولر بینچ سے کیوں نہیں۔

درخواستگزار کے وکیل عامر رضا نقوی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ہائیکورٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 کے اختیارات عمومی طور پر آئین کے آرٹیکل 199 میں استعمال کرتی ہیں۔ آئینی بینچ کو بنیادی حقوق کے اختیارات کے ساتھ ساتھ ریگولر بینچ کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

جسٹس عبد المبین لاکھو نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے درخواستگزار کے ٹکٹ کی کاپی پیش نہیں کی کہ وہ کہاں سے اور کب آنا چاہتی ہیں۔ عامر رضا نقوی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ درخواستگزار امریکہ میں ہیں، متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کیلیے 8 سے 10 ہفتوں کی مہلت دی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اتنی طویل مہلت نہیں دی جاسکتی، درخواستگزار آنا چاہتی ہیں تو کچھ تیاری کی ہوگی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ  دسمبر میں ٹکٹس مہنگے ہوتے ہیں اور سیٹیں بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ آئینی بینچ نے صنم درانی کی 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، عالمی میڈیا سے تشویشناک خبریں آرہی ہیں: سہیل آفریدی
  • آئینی ترمیم کو مسترد کرنا کسی عدالت کے اختیار میں نہیں، بلاول بھٹو
  • آئینی ترمیم مسترد کرنا کسی عدالت کے اختیار میں نہیں، چیئرمین پیپلزپارٹی
  • پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس : پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر مقام بنا چکے ہیں؛ بلاول بھٹو زرداری
  • آئینی ترمیم: پاکستان کا اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا بیان مسترد
  • ایجنٹ مافیا پیسوں کے لالچ میں معصوم لوگوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے: محسن نقوی
  • آغا سراج درانی کی بیٹی کی پاکستان واپسی کی درخواست منظور، عدالت میں پیش ہونے کا حکم
  • آئینی عدالت کے ججز کی تقرری کیخلاف درخواست پر چیف جسٹس کو نوٹس جاری کرنے کے نکتے پر فیصلہ محفوظ
  • وفاقی آئینی عدالت میں بھی 27ویں ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا