data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جماعت اسلامی پاکستان کا تاریخی اجتماع عام ختم ہوچکا ہے‘ یہ محض ایک اکٹھ نہیں تھا اور نہ ہجوم اور کسی پر دھاک بٹھانے کا کوئی پروگرام تھا۔ یہ ایک فکری بیداری کی تحریک تھی، نظریاتی استقامت کی بے مثال کوشش اور اجتماعی شعور عظیم مظہر تھا۔ جس سے پاکستان کے معاشرے کی اصَاہ (امید؍ آرزو) کے لیے ایک نئی ارتعاش اور لہر پیدا کرنا تھی ’’بدل دو نظام‘‘ کا عنوان ہی بتاتا ہے کہ مقصد کیا تھا یوں کہہ لیجیے یہ روڈ میپ قوم کو روشنی میں لے آئے گا۔ روایتی سیاست، موروثی قیادت سے نجات دلائے گا اور استحصالی نظام دفن کرے گا۔ سب جانتے ہیں کہ قوموں کی تباہی کی جڑ صرف معاشی بدحالی یا انتظامی بے ترتیبی نہیں، بلکہ کرپٹ قیادت ہوتی ہے۔ جب قیادت کا تعین کردار کے بجائے تعلقات، اصولوں کے بجائے مفادات اور اہلیت کے بجائے نسب کے ذریعے ہونے لگے تو اسی پس منظر میں حافظ نعیم الرحمن کی آواز ایک تازہ ہوا کے جھونکا ہے۔
’’بدل دو نظام‘‘ ایک مربوط لائحہ عمل ہے جس نے قوم کے اندر امید کی نئی کرن روشن کی ہے یہ اجتماع عام روشن دلیل ہے کہ عوام اس فرسودہ، طبقاتی اور استحصالی نظام سے چھٹکارا چاہتے ہیں لوگ اب محض باتیں نہیں چاہتے بلکہ تبدیلی کا عملی منصوبہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ قوم عارضی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انقلاب کی طلب گار ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصل نظریہ اللہ کی حاکمیت اور انسان کی نیابت پر مبنی ہے جب اسلام میں فاطمہ بنت ِ محمدؐ جیسی مقدس ہستی کو بھی قانون میں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں، تو پھر ملک کا کوئی صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف یا بااختیار شخصیت قانون سے بالاتر کیسے ہو سکتی ہے؟
آج کا حکمران طبقہ امریکی مفادات کی تکمیل کو قومی مفاد پر ترجیح دیتا ہے ہمارے فیصلے اسلام کے مطابق نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقوں اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات کے تحت کیے جاتے ہیں یہ اجتماع اس ذہنیت کے خلاف اعلانِ بغاوت تھا۔ اجتماع کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ حافظ نعیم الرحمن نے تبدیلی کا عملی روڈ میپ دیا روڈ میپ میں واضح کیا گیا کہ کسان کو اور پسے ہوئے طبقے کو اْس کی محنت کا پورا حصہ دینا ہوگا، اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی جائے گی۔ بلدیاتی نمائندگی حقیقی جمہوریت کی پہلی شرط ہے، جبکہ پنجاب کا موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوامی نہیں بلکہ سیاسی قبضے کا نمونہ ہے۔ اسی طرح یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن دو ٹوک موقف اپنایا۔ 2 کروڑ 62 لاکھ بچوں کا اسکول سے باہر ہونا صرف حکومتی ناکامی نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔
یہ وہ نکات ہیں جن پر آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے بات نہیں کی۔ روڈ میپ میں پسماندہ طبقات کی بحالی، خواتین کے حقوق، مزدور کی حفاظت، کسان کی عزت اور نچلے طبقے کے وقار جیسے نکات شامل ہیں۔ ’’بنو قابل‘‘ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوانوں کا رجسٹر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان اس ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے لیے بے چین ہیں، مگر ریاست اْن کے راستے مسدود کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں جماعت اسلامی منفرد ہے، یہ واحد جماعت ہے جہاں قیادت کارکنان کے ووٹ سے آتی ہے، کسی خاندان کا اجارہ نہیں اور تبدیلی اجتماعی فیصلے کا نتیجہ ہوتی ہے سرمایہ دارانہ ذہنیت نے عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے جس میں عوام کی کوئی آواز نہیں۔ ’’بدل دو نظام‘‘ کا نعرہ پوری قوت کے ساتھ گونجا۔ یہ اجتماع عام ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اس میں ایک مکمل روڈ میپ بھی موجود تھا جس نے ثابت کیا کہ پاکستان عملی تبدیلی کے لیے تیار ہو چکا ہے۔ معروف صنعتی ماہرین کی گفتگو اور لاکھوں افراد کا اجتماعی ردعمل بتا رہا تھا کہ قوم صرف تنقید نہیں چاہتی، حل چاہتی ہے، اور وہ حل سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کہتے ہیں کہ کارکنان اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے سب کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گے، اور بہت جلد انقلاب آپ کے دروازے پر دستک دے گا۔ یہ دراصل ایک واضح پیغام ہے لاہور کے اس تاریخی اجتماع نے ثابت کر دیا کہ عوام تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ مگر تبدیلی صرف نعروں سے نہیں آتی، اس کے لیے نظریاتی قیادت، جمہوری مزاج، اجتماعی جدوجہد اور مسلسل استقامت درکار ہوتی ہے۔ بدل دو نظام‘ کا روڈ میپ قوم کے سامنے ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ قوم اس تبدیلی کا حصہ کب بنتی ہے؟ ملک ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم کو اس بدل دو نظام تحریک میں گلی محلوں اور ہر ہر سطح پر منظم ہو کر تحریک چلانے ہوگی یہی قومی ضرورت اور اجتماع عام کا پیغام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن روڈ میپ کے لیے کہ قوم
پڑھیں:
وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔
یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔
مزید :