حکومت مغرب کے اصل ایجنڈے پر عملدرآمد کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمان حکومت پر برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مردان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ عمران خان مغربی ایجنڈے پر کام کر رہے تھے، لیکن اب موجودہ حکومت مغرب کے اصل ایجنڈے پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماضی کی تلخ یادیں بھول چکے، پاکستان بنگلہ دیش کو بھائی کی طرح دیکھتا ہے، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان نے ملکی معیشت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وہ ملک نہیں رہا جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو ان کے حقوق دے، آج آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے اور عوامی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی مرضی چل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 27 ویں ترمیم کے لیے ارکان خریدے گئے اور جعلی اکثریت سے یہ ترمیم منظور کی گئی۔
سربراہ جے یو آئی نے خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے عالمی امور پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں فلسطینیوں کا خون بہ رہا ہے اور شہباز شریف، ٹرمپ کو امن کا نوبل دلوانے کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے بارے میں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور مسلح گروہوں کو جنگ ختم کر دینی چاہیے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جمعیت علمائے اسلام مغربی ایجنڈا مولانا فضل الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جمعیت علمائے اسلام مغربی ایجنڈا مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان کہا کہ
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔