پاک آرمی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے درمیان مشترکہ فوجی مشق “وارئیر-IX” کا آغاز ہو گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ سالانہ انسدادِ دہشت گردی مشقوں کے سلسلے کی 9ویں مشق ہے، جو دونوں ممالک کے باہمی تعاون کی ایک اور مضبوط مثال ہے۔

مشق کا آغاز یکم دسمبر 2025 کو ہوا جس کا بنیادی محور انسدادِ دہشت گردی آپریشنز ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا، پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنا اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق بہترین تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’پاک-ترکیہ مشترکہ مشق اتاترک 13‘ کی اختتامی تقریب

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون دیرینہ، پائیدار اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے۔ ’وارئیر-IX‘ جیسی مشقیں دونوں ممالک کے مضبوط فوجی تعلقات اور علاقائی امن، استحکام اور سیکیورٹی کے مشترکہ عزم کی علامت ہیں۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں منگلا کور کے کمانڈر اور پی ایل اے ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف میجر جنرل بیان شیاومنگ سمیت پاکستان اور چین کے سینیئر عسکری حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ssg پاک فوج چین مشترکہ مشقیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک فوج چین مشترکہ مشقیں اور چین

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر