باہمی عسکری تعاون کی ایک اور مثال، پاکستان اور چین کی افواج کی مشترکہ مشقوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاک آرمی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے درمیان مشترکہ فوجی مشق “وارئیر-IX” کا آغاز ہو گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ سالانہ انسدادِ دہشت گردی مشقوں کے سلسلے کی 9ویں مشق ہے، جو دونوں ممالک کے باہمی تعاون کی ایک اور مضبوط مثال ہے۔
مشق کا آغاز یکم دسمبر 2025 کو ہوا جس کا بنیادی محور انسدادِ دہشت گردی آپریشنز ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا، پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنا اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق بہترین تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’پاک-ترکیہ مشترکہ مشق اتاترک 13‘ کی اختتامی تقریب
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون دیرینہ، پائیدار اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے۔ ’وارئیر-IX‘ جیسی مشقیں دونوں ممالک کے مضبوط فوجی تعلقات اور علاقائی امن، استحکام اور سیکیورٹی کے مشترکہ عزم کی علامت ہیں۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں منگلا کور کے کمانڈر اور پی ایل اے ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف میجر جنرل بیان شیاومنگ سمیت پاکستان اور چین کے سینیئر عسکری حکام نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ssg پاک فوج چین مشترکہ مشقیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک فوج چین مشترکہ مشقیں اور چین
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔