جماعت اہلسنت کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس، خلفائے راشدین کے ایام سرکاری طور پر منانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ اس وقت وطن عزیز بالخصوص صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخواہ دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں ہے، مختلف مقامات پر بم دھماکے، خودکش حملے اور سیکورٹی فورسز کی شہادت کے پے در پے واقعات، ملکی سلامتی اور استحکام کو چیلنج کرنے اور ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہل سنت پنجاب کے صوبائی ناظم اعلی علامہ محمد فاروق خان سعیدی، جمعیت علمائے پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر محمد ایوب مغل نورانی، مرکزی ناظم اطلاعات و پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے رہنما مفتی محمد عثمان پسروری، جماعت اہل سنت کی صوبائی مجلس عاملہ کے رکن محمد حسین بابر ایڈووکیٹ، پاکستان سنی تحریک جنوبی پنجاب کے ناظم اعلی مرز امحمد ارشد القادری، جماعت کے ڈویژنل رہنما قاضی محمد بشیر گولڑوی، ڈاکٹر محمد ارشد بلوچ اور مرکزی میلاد کمیٹی کے صدر کن الدین حامدی نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے چاروں خلفا راشدین کے ایام سرکاری سطح پر منائے جائیں، اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد پر عمل کیا جائے۔ اسلامیان پاکستان کے دیرینہ مطالبے کے پیش نظر خلفائے راشدین کے ایام وصال و شہادت سرکاری سطح پر شایان شان طریقے سے منائے جائیں، اس کا آغاز 22 جمادی الثانی 14 دسمبر 2025 خلیفہ اول جانشین رسول سیدنا حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے یوم وصال سے کیا جائے حکومت کو فوری طور پر یہ مطالبہ منظور کرتے ہوئے اس کا اعلان کرنا چائے۔
اس وقت وطن عزیز بالخصوص صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخواہ دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں ہے، مختلف مقامات پر بم دھماکے، خودکش حملے اور سیکورٹی فورسز کی شہادت کے پے در پے واقعات، ملکی سلامتی اور استحکام کو چیلنج کرنے اور ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے ازلی دشمن بھارت کا افغان حکومت سے گٹھ جوڑ قابل نفرت و مذمت ہے، اس مذموم سازش کے مقابلے کے لیے حکومت سمیت تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو کر سیسہ پلائی دیوار بن جائیں اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنادیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔