ہالی ووڈ میں بڑی ہلچل، نیٹ فلکس وارنر بروس ڈسکوری کے حصول کے قریب پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
نیٹ فلکس نے وارنر بروس ڈسکوری کے اسٹوڈیوز اور اسٹریمنگ اثاثوں کے لیے اب تک کی سب سے بڑی پیشکش کردی ہے، جو تقریباً 28 ڈالر فی شیئر کی قیمت پر کی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پیشکش گزشتہ جمعرات کو جمع کرائی گئی۔ اسی دن پیرا ماؤنٹ نے بھی ایک نئی پیشکش کی، جس کی قیمت تقریباً 27 ڈالر فی شیئر تھی۔
تاہم ان دونوں پیشکشوں کا براہ راست موازنہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ پیرا ماؤنٹ پورے وارنر بروس ڈسکوری کو خریدنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں سی این این اور دیگر کیبل چینلز بھی شامل ہیں جبکہ نیٹ فلکس اور دیگر بڈرز صرف اسٹوڈیوز اور اسٹریمنگ اثاثوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
Netflix has won the bidding war to purchase Warner Bros.
They are now entering exclusive deal talks, with Netflix offering $30 a share and a $5 billion break-up fee.
The sale is not yet finalized, as the U.S. Department of Justice could also interfere due to… pic.twitter.com/3mIQ3XzmK8 — DiscussingFilm (@DiscussingFilm) December 5, 2025
میڈیا کی یہ بڑی خریداری کی جنگ حالیہ دنوں میں تیز ہو گئی ہے، جس نے ہالی وڈ کی توجہ حاصل کی ہے اور اس کی گونج وائٹ ہاؤس تک جاپہنچی ہے۔
ایچ بی او اور ڈی سی کامکس جیسے برانڈز کا مستقبل اس جنگ سے وابستہ ہے۔
دونوں کمپنیوں کے نمائندوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم معلومات کے مطابق نیٹ فلکس اس وقت سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
پیرا ماؤنٹ نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وارنر بروس ڈسکوری کے عمل کو نیٹ فلکس کے حق میں جانبدار قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وارنر بروس ڈسکوری نیٹ فلکس
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔