پاکستان کی ترک کمپنیوں کو 3 بجلی گھر خریدنے کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیٹ نیوز) پاکستان نے ترکیہ کی کمپنیوں کو تین بجلی گھر خریدنے کی پیش کش کر دی۔ یہ پیشرفت اْس وقت سامنے آئی جب وزیر توانائی اویس لغاری اور ترک ہم منصب الپرسلان بیرکتار سے ملاقات ہوئی۔ جس میں توانائی کے شعبے اور بالخصوص ڈسکوز کی نجکاری کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر توانائی نے ترک ہم منصب کو پاور سیکٹر کے اداروں میں جاری اصلاحات اور سرمایہ کاری کیمواقع پر بریفنگ دی اور بتایا کہ حکومت پہلے مرحلے میں تین بجلی کمپنیوں کی نجکاری کرنے جارہی ہے۔ پاکستان ڈسکوز کی نجکاری میں تجربہ کارعالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت کا خواہش مند ہے۔ وسیع تجربے کی حامل ترک کمپنیوں کی شمولیت بہت اہم ہوگی۔ ترجمان وزارت توانائی کے مطابق وزیر توانائی نے خصوصی طور پر ترکی کے نافذ کردہ رعایتی ماڈل کا حوالہ دیا اور انسانی وسائل کی بہتری کیلئے ترکیہ کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن ایک مربوط توانائی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان ترکی سے اس منصوبے کی تیاری میں معاونت کا خواہشمند ہے۔ علاوہ ازیں وزیر توانائی اویس لغار ی سے کرغز ہم منصب نے ملاقات کی جس میں وزیر توانائی کی وسطی ایشیائی ریاستوں کے اشتراک سے کاسا انرجی مارکیٹ کے قیام کی تجویز سامنے آئی۔اعلامیے کے مطابق انرجی مارکیٹ سے خطے کے تمام ممالک کو توانائی کے شعبے میں صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے گا، فریقین نے کاسا 1000 منصوبے پر عملدرآمد میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر توانائی
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔