شہباز سرکار کی پیٹرول پر ٹیکسوں کی بھرمار،عوام 167 روپے کا پیٹرول 263 میں خریدنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
1لیٹرپیٹرول پر 96روپے ٹیکس وصولی کا انکشاف، ایک لیٹر ڈیزل میں 34 فیصد ٹیکسز شامل ،پیٹرول اور ڈیزل پرٹیکس کسٹم ڈیوٹی پیٹرولیم اور کلائیمیٹ لیوی کی مد میں عائد ہیں
ملک میں پیٹرول 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 279 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے،یکم دسمبرکو پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ،ذرائع
شہباز حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی بھرمار کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، عوام 167 روپے کا پٹرول 263 روپے میں خریدنے پر مجبور،1لیٹر پٹرول پر 96روپے ٹیکس وصولی کا انکشاف ۔ تفصیلات کے مطابق عوام سے پٹرول اور ڈیزل پر وصول کیے جانے والے ٹیکسز کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 37 فیصد ٹیکسز شامل ہیں۔ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 96 روپے 28 پیسے کے ٹیکسز شامل ہیں۔ ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 34 فیصد ٹیکسز شامل ہیں، ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 94 روپے 92 پیسے کے ٹیکسز ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر یہ ٹیکس کسٹم ڈیوٹی پیٹرولیم اور کلائیمیٹ لیوی کی مد میں عائد ہیں۔ملک میں پیٹرول 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ڈیزل 279 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے۔یاد رہے کہ حکومت نے 30 کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔ اتوار یکم دسمبرکو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2روپے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے79 پیسے کی کمی کے بعد 279 روپے 65 پیسے مقرر کی گئی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق 15 دسمبر تک کیلئے کیا گیا ہے۔ جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی ہو سکتی ہے، تاہم حکومت نے توقعات کے برعکس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کرنے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پیسے فی لیٹر کی قیمت میں ایک لیٹر
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں