سندھ کرافٹ فیسٹیول جہاں مشین نہیں انسانی ہاتھ کمال دکھاتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
کراچی کے پورٹ گرینڈ میں سندھ کرافٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جو سندھ کلچر فیسٹیول کا ایک حصہ ہے یہ فیسٹیول محکمہ ثقافت، حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جاتا ہے اور یہ سندھ کے بھرپور ثقافتی ورثے اور روایتی دستکاریوں کو اجاگر کرنے کا ایک شاندار موقع فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: الحمرا صوفی فیسٹیول: صوفیانہ عظمتوں کی آواز
فیسٹیول میں 100 سے زائد اسٹالز لگائے جاتے ہیں جن میں سندھ کی مختلف روایتی دستکاریاں نمائش کے لیے رکھی جاتی ہیں، خاص طور پر خواتین کاریگروں کی بنائی ہوئی چیزیں۔
اس فیسٹیول میں کڑھائی کا کام اور موتیوں کا کام، چرمی کام، لاک کا فن، مٹی کے برتن، حیدرآبادی چوڑیاں اور پیتل کا سامان حاضرین کی داد وصول کر رہا تھا، زائرین کو سندھی لوک موسیقی، صوفیانہ کلام، اور ثقافتی رقص جیسے کہ لیوا اور ڈانڈیا دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
مزید پڑھیں: پہلا سہ روزہ الحمراء صوفی فیسٹیول 2025
فیسٹیول میں سندھ کی تاریخ، لباس، اور ادبی ورثے کے ڈسپلے بھی لگائے جاتے ہیں، جن میں شاہ عبداللطیف بھٹائی اور شیخ ایاز جیسے شعرا کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ روایتی دیہی زندگی اور دستکاری کے براہ راست مظاہرے بھی کیے جاتے اس فیسٹیول کا بنیادی مقصد سندھ کے صدیوں پرانے ورثے کو فروغ دینا، مقامی دستکاروں، بالخصوص خواتین کے فن کو نمایاں کرنا، اور شہریوں کو صوبے کی جاندار روایات سے جوڑنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ کرافٹ فیسٹیول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔