مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں: سپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ''پنجاب پارلیمنٹیرینز کانفرنس برائے پائیدار ترقی کے اہداف'' میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ یہ کانفرنس پارلیمنٹری ڈویلپمنٹ یونٹ کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے اپنے خطاب میںکہا مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام کے بغیر عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا صوبائی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے اور بلوچستان سمیت تمام صوبے مقامی آبادی کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے ستھرا پروگرام کو ایک کامیاب ماڈل قرار دیتے کہا پہلی بار دیہی سطح پر گلیوں کی صفائی کا منظم نظام قائم کیا گیا جو مقامی حکومتوں کے استحکام کی مضبوط مثال ہے۔ موجودہ حکومت ماحول کی بہتری کیلئے اربوں روپے کا بجٹ مختص کر چکی۔ نظام کی درست سمت، وسائل کی عادلانہ تقسیم اور مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آخر میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ ڈویلپمنٹ گولز کے حصول کیلئے مسلسل مکالمہ ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :