سری لنکا سیلاب: پاکستان کی امدادی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے کولمبو پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی امدادی ٹیم سی 130 طیارے کے ذریعے سری لنکا پہنچ گئی ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق یہ ٹیم وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے روانہ کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سری لنکا کے لیے انسانی امداد پر بھارت کی سفارتی ہٹ دھرمی، پاکستان کو 200 ٹن سامان بحری جہاز سے بھیجنا پڑگیا
کولمبو میں پاکستان کے ہائی کمشنر میجر جنرل (ر) فہیم العزیز اور سری لنکا کے نائب وزیر برائے پورٹ نے ریسکیو ٹیم کا استقبال کیا۔
پاکستانی ہائی کمشنر نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی ٹیم کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور تمام اہلکاروں سے ملاقات بھی کی۔
اس موقع پر ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح اس مشکل گھڑی میں بھی سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
ترجمان این ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے 200 ٹن اضافی امدادی سامان بھی بحری راستے سے جلد سری لنکا روانہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سری لنکا کو بدترین سیلابی صورت حال کا سامنا ہے، جس کے باعث سیکڑوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: طوفان ڈٹوا سے تباہی، بنگلادیش نے سری لنکا کے لیے امداد کی کھیپ بھیج دی
اس سے قبل پاکستان نیوی کی ٹیم سری لنکا میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امدادی ٹیم سری لنکا سیلاب کولمبو پہنچ گئی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امدادی ٹیم سری لنکا سیلاب کولمبو پہنچ گئی وی نیوز سری لنکا کے پاکستان کی کے لیے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔