جی سی سی ریاستوں کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے، بحرین سمٹ میں نئے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رہنماؤں نے بحرین کے السخیر پیلس میں سپریم کونسل کے 46ویں اجلاس کے اختتام پر مشترکہ عقیدے، نسب، زبان اور ایک مشترکہ تقدیر پر مبنی اپنی اٹوٹ سلامتی کے رشتے کی توثیق کی، اور کہاکہ جی سی سی ریاستوں کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جاسم محمد البدیوی نے کہاکہ خلیجی ریاستیں اس سال قطر پر ایران اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے الگ الگ حملوں کے بعد اس کی حمایت میں متحد کھڑی رہیں، جو غزہ تنازع کے دوران پیش آئے۔
مزید پڑھیں: ایران کی قطر کے خلاف جارحیت خود مختاری پر حملہ ہے، خلیج تعاون کونسل
انہوں نے کہاکہ جون میں ایران کی جانب سے امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے والا میزائل حملہ ناقابل قبول جارحیت، قطر کی خودمختاری، فضائی حدود اور حسنِ پڑوسی کے اصولوں کی واضح خلاف ورزی تھا۔
ستمبر میں اسرائیل نے دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملہ کیا، جس میں 6 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک قطری شہری بھی شامل تھا۔
جاسم محمد البدیوی نے کہاکہ اسرائیل کی بربریت پر مبنی یہ جارحیت جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں پر کھلا حملہ تھا۔
خلیجی رہنماؤں نے اکتوبر میں شرم الشیخ امن کانفرنس کے نتائج اور غزہ جنگ کے خاتمے، انسانی امداد کی فراہمی اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کا خیرمقدم کیا، جو دو ریاستی حل اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کو مضبوط کرنا ہے، جبکہ علاقائی اور عالمی تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے پر بھی کام کرنا شامل ہے۔
انہوں نے ستمبر میں نیویارک میں سعودی عرب اور فرانس کی زیرِ صدارت ہونے والی کانفرنس کو سراہا، جس کے نتیجے میں برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔
انہوں نے قطر، مصر اور ترکیہ کی ان مستقل کوششوں کی بھی تعریف کی جن کی بدولت غزہ معاہدے سے متعلق بات چیت آگے بڑھی۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جی سی سی اجلاس میں سعودی وفد کی قیادت کی اور سعودی بحرینی کوآرڈینیشن کونسل کے چوتھے اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کی۔
بحرین کے بادشاہ شیخ حمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ نے کہاکہ اجلاس میں علاقائی امور اور جی سی سی کی یکجہتی اور انضمام کو مضبوط بنانے کے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔
کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے کہاکہ جی سی سی نے پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر قابو پا لیا ہے اور قطر کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کو دہرایا۔
رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو جوہری اور تباہ کن ہتھیاروں سے پاک بنانے کے مقصد پر زور دیا۔
انہوں نے بحرین میں قائم مشترکہ بحری افواج کی توانائی کے تحفظ، بحری راستوں کی حفاظت اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے جی سی سی کامن مارکیٹ اور کسٹمز یونین کی ضروریات کو پورا کرنے، تجارت و سیاحت کے فروغ، اور بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، توانائی، مواصلات، پانی اور خوراک جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مزید پڑھیں: خلیج تعاون کونسل کا غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ
رہنماؤں نے اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی کا خیر مقدم کیا، جو مہمانِ خصوصی کے طور پر اجلاس میں شریک تھیں۔
واضح رہے کہ جی سی سی 1981 میں قائم ہوئی اور اس کے 6 رکن ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، بحرین، قطر اور کویت شامل ہیں۔ اس کا صدر دفتر ریاض میں واقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جاسم محمد البدیوی جی سی سی خلیج تعاون کونسل مشترکہ عقیدہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاسم محمد البدیوی خلیج تعاون کونسل مشترکہ عقیدہ وی نیوز خلیج تعاون کونسل نے کہاکہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔