مشکل تجربات نے مجھے مضبوط بنایا، مادھوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی وُڈ کی لیجنڈری اداکارہ اور کلاسیکل ڈانسر مادھوری دکشت نے اپنے ابتدائی کیریئر کے ایک حیران کن اور مشکل تجربے کا انکشاف کیا ہے۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کبھی ایسا بھی وقت تھا جب انہیں IIT ممبئی کے موڈ انڈیگو فیسٹیول میں اسٹیج پر بُو کیا گیا تھا اور تماشائیوں نے ان پر چیزیں پھینکی تھیں۔
مادھوری دکشت، جو فلم دیوداس سمیت متعدد فلموں میں روایتی رقص کے لیے مشہور ہیں، نے بتایا کہ وہ صرف تین سال کی عمر سے کتھک کی تربیت حاصل کر رہی تھیں اور متعدد اسٹیج پرفارمنس کر چکی تھیں۔
اداکارہ نے یاد کرتے ہوئے کہا:
“میں اور میری بہن نے IIT ممبئی کے موڈ انڈیگو میں پرفارم کیا۔ شو شروع ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد لوگ بُو کرنے لگے اور چھوٹے راکٹ اسٹیج پر پھینکنے لگے۔ میں گھبرا گئی تھی، مگر میری بہن نے کہا کہ ہمیں ڈٹے رہنا ہے اور پرفارم کرنا ہے۔ ہم نے اپنا پروگرام مکمل کیا۔”
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مشکل تجربات ان کی مضبوطی کا باعث بنے اور انہوں نے ناظرین کا دل جیتنے کا ہنر سیکھ لیا۔
مدھوری ڈکشٹ اس وقت اپنی آنے والی تھرلر ڈرامہ ویب سیریز مسز دیش پانڈے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جو 19 دسمبر 2025 کو ریلیز ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔