کشمیر کے ساتھ کھڑا ہونا ہر ایک کا اخلاقی فرض اور مشترکہ ذمہ داری ہے، مقررین کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق کانفرنس میں سفارت کاروں، سیاست دانوں، ماہرین تعلیم، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں وائس آف جسٹس ان کشمیر (VOJIK) کے زیراہتمام ایک کانفرنس کے مقررین نے کہا ہے کہ کشمیر کاز کی حمایت محض ہمدردی نہیں بلکہ ہر ایک کا اخلاقی فرض اور مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ذرائع کے مطابق کانفرنس میں سفارت کاروں، سیاست دانوں، ماہرین تعلیم، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت دلانے کے لیے پائیدار عالمی وکالت ناگزیر ہے۔ وائس آف جسٹس ان کشمیر کے ڈائریکٹر کمیونٹی انگیجمنٹ سردار زبیر خان نے کہا کہ تنظیم بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کا مقصد مظلوم کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرنا، پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونا اور دنیا میں کشمیری اور جنوب ایشیائی کمیونٹیز کو مربوط وکالت کے لیے متحد کرنا ہے۔
وائس آف جسٹس ان کشمیر کے انٹرنیشنل ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور تقریب کے میزبان پروفیسر وارث علی خان نے کہا کہ تنظیم کا مشن حکومتوں، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی میڈیا میں کشمیریوں کے بنیادی سیاسی حقوق کا دفاع کرنا ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر گورنمنٹ افیئرز سردار ذوالفقار روشن خان نے کہا کہ یہ تنظیم ایک ایسی دنیا چاہتی ہے جہاں کشمیری عزت اور انصاف کے ساتھ رہ سکیں اور آزادانہ طور پر جمہوری طریقے سے اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔ تنظیم کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی سردار ظریف خان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا کہ یہ گروپ عالمی فیصلہ سازوں کو آگاہ کرنے کے لیے شواہد پر مبنی رپورٹس، پالیسی بریف اور سیمینارز کا انعقاد کرے گا۔ ڈائریکٹر میڈیا ریلیشنز محمد ندیم کھوکھر نے کہا کہ تنظیم مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے کانفرنسیں، میڈیا مہمات اور ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے انسانی حقوق کے گروپوں، یونیورسٹیوں اور میڈیا نیٹ ورکس کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ کھڑا ہونا ایک اخلاقی ذمہ داری اور مقدس امانت ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تشویش کو عملی کارروائی اور غیر متزلزل عزم میں تبدیل کریں۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سفارت کار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی جبر کی وجہ سے آواز نہیں اٹھا سکتے، انہوں نے کہا کہ جب سچ جرم بن جائے تو خاموشی بقا بن جاتی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیراعظم اور صدر سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ اس کانفرنس نے اتحاد اور ذمہ داری کا ایک شعلہ روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے تالیوں سے ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا آغاز عمل سے ہونا چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ متنوع سامعین اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی یا نظریاتی اختلافات کے باوجود کشمیر کاز تمام لوگوں کو متحد کرتا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ اگر مقبوضہ علاقے میں مظلوم کشمیریوں کو خاموش کرایا جاتا ہے تو آزاد کشمیر کے عوام کو ان کی آواز بننا چاہیے۔ مرسی یونیورسل کے چیئرمین نذیر احمد قریشی نے کہا کہ کشمیر میں مظالم پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ کانفرنس کے پیغام کو اپنے اداروں اور برادریوں تک پہنچائیں۔ ترکی کے بین الاقوامی امور کے معروف اسکالر پروفیسر سمیع العریان نے کہا کہ اتحاد کو قبضے کی زنجیروں سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے اور مراعات یافتہ آوازوں کو امید کا دفاع کرنا چاہیے۔ ممتاز ترک صحافی مہمت اوزترک نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیر کا آسمان آزادی سے روشن نہیں ہو جاتا۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں سردار شعیب ارشاد، محمد رفیق ڈار، ڈاکٹر ولید رسول، ظفر قریشی، سردار عبدالخالق وصی، سردار عابد رزاق، حیدر ملک سیالوی، عمران عزیز، ڈاکٹر بیدار اور البانوی نمائندے شیخ اسامہ شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ تنظیم خان نے کہا کہ کشمیر کے کہ کشمیر کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
ملاقات کے دوران آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، آئندہ انتخابات کے حوالے سے جماعت کی حکمت عملی، ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات یکسو کرنے اور تنظیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یسین کے درمیان ایوان وزیراعظم میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید، وزراء حکومت سید بازل علی نقوی، جاوید اقبال بڈھانوی اور معاون خصوصی مبشر منیر اعوان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، آئندہ انتخابات کے حوالے سے جماعت کی حکمت عملی، ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات یکسو کرنے اور تنظیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر تمام وزراء نے وزیراعظم اور صدر جماعت کو اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر عوام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے اور آئندہ انتخابات میں عوامی خدمت، بہتر طرز حکمرانی اور ترقیاتی ایجنڈے کی بنیاد پر بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے عملی اقدامات پارٹی کی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہوں گے۔ صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یسین نے کہا کہ جماعت کو نچلی سطح تک مزید فعال اور منظم بنایا جائے گا تاکہ کارکنوں اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان ہی جماعت کا اصل سرمایہ ہیں اور ان کی مشاورت اور تجاویز کو ہر سطح پر اہمیت دی جائے گی۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ انتخابات کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی، پارٹی تنظیموں کو مزید متحرک بنایا جائے گا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر عوامی اعتماد پر پورا اترتے ہوئے خطے کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرے گی۔