بھارت کی جانب سے فضائی راستے کی اجازت نہ ملنے کے باعث پاکستان کو سری لنکا کے لیے بھیجی جانے والی ہنگامی انسانی امداد سمندر کے راستے روانہ کرنا پڑی۔

دفترِ خارجہ نے گزشتہ روز بتایا ہےکہ بھارت مسلسل پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے لیے بھیجی جانے والی انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

 اس ضمن میں پاکستان کا خصوصی طیارہ 60 گھنٹے سے زائد انتظار کے باوجود بھارتی کلیئرنس کا منتظر رہا۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا میں سیلاب کے باعث ہلاکتیں 56 تک پہنچ گئیں، دفاتر اور اسکولز بند

بیان کے مطابق بھارت کی جانب سے 48 گھنٹے بعد دی جانے والی جزوی کلیئرنس ’عملی طور پر ناقابلِ عمل‘ تھی۔

’۔۔۔کیونکہ یہ چند گھنٹوں تک محدود تھی اور واپسی کی پرواز کے لیے کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی۔‘

سری لنکا میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 410 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: سری لنکا کے لیے پاکستان کی انسانی امداد تاخیر کا شکار، بھارت کی جزوی کلیئرنس غیر مؤثر

سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈِسانایکے نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔

جس پر بھارت اور پاکستان دونوں ہی امدادی کارروائیاں شروع کر چکے ہیں۔

تاہم اسلام آباد کی جانب سے سری لنکا روانہ ہونے والے امدادی طیارے کے لیے انڈین فضائی حدود سے گزرنے کی درخواست نے سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

مزید پڑھیں:پاک بحریہ کی جانب سے سری لنکا میں امدادی کارروائیاں جاری

بھارت کی فضائی حدود کا راستہ متبادل راستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مختصر ہے، اور امدادی طیارے کے لیے اس کے استعمال کی اجازت اہمیت رکھتی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے بیان کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اسے بھارت مخالف غلط معلومات پھیلانے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مشکل وقت میں سری لنکا کے عوام کی ہر ممکن مدد کے عزم پر قائم ہے۔

مزید پڑھیں: سری لنکا کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ، مشکل کی گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم

واضح رہے کہ اس سال کے اوائل میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں توسیع کی تھی۔

یہ فیصلہ دہائیوں کے بعد جوہری طاقتوں کے درمیان بدترین کشیدگی کے بعد لیا گیا تھا۔

نئی دہلی کے حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی امدادی طیارے کی درخواست موصول ہونے کے چند گھنٹوں بعد کلیئرنس جاری کر دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:سری لنکا میں سیلاب سے جانی نقصان پر صدر آصف زرداری کا اظہار تعزیت

بعد ازاں سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امدادی طیارے اب بھی کلیئرنس کے منتظر ہیں اور بھارت مختلف حربوں کے ذریعے انسانی امداد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

بیان کے مطابق ہفتے سے پاک فوج اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سری لنکا میں امدادی سرگرمیوں کے لیے تیار تھیں۔

’2 روز سے زائد عرصے سے پاکستان کے سی 130 طیارے نور خان ایئربیس پر کھڑے ہیں، جن میں شہری بچاؤ کا تربیت یافتہ عملہ، فیلڈ اسپتال، تربیت یافتہ سراغ رساں کتے اور تقریباً 200 ٹن امدادی سامان موجود ہے۔‘

مزید پڑھیں: شدید طوفان سے متاثرہ سری لنکا کے لیے پاکستان کی اعلیٰ سطح کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم روانہ

حالانکہ تمام دستاویزات پہلے ہی موجود تھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام رکاوٹیں امدادی کارروائیوں میں دانستہ تاخیر پیدا کرنا ہیں۔

دفترِ خارجہ کے مطابق فضائی اجازت میں تاخیر کے باعث پاکستان نے 200 ٹن انسانی امداد بحری جہاز کے ذریعے سری لنکا روانہ کر دی ہے۔

روانگی کی تقریب میں سری لنکا کے ہائی کمشنر ایڈمرل رویندرا سی وجے گنارتنے اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امدادی طیارے ایئر لائنز ایمرجنسی پاکستان دستاویزات رندھیر جیسوال سری لنکا فضائی حدود کشیدگی کلیئرنس نئی دہلی ہائی کمیشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امدادی طیارے ایئر لائنز ایمرجنسی پاکستان دستاویزات رندھیر جیسوال سری لنکا کشیدگی کلیئرنس نئی دہلی ہائی کمیشن سری لنکا کے لیے امدادی طیارے سری لنکا میں مزید پڑھیں کی جانب سے بھارت کی

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی