این ڈی ایم اے نے پاک فوج کی ایلیٹ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم سری لنکا روانہ کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کراچی:
این ڈی ایم اے نے شدید طوفان کی تباہ کاریوں کے بعد پاک فوج کی ایلیٹ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم سری لنکا روانہ کردی۔
سری لنکا میں شدید طوفان سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی اور سری لنکا کی حکومت کی جانب سے امداد کی اپیل کے بعد حکومت پاکستان نے متاثرہ آبادی کے لیے امدادی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سری لنکا کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے ایک سرشار پاکستان سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو آج صبح روانہ کردیا گیا۔
پاکستان ایئر فورس کا ایک C-130 طیارہ 47 رکنی ٹیم کے ساتھ 6.
این ڈی ایم اے نے کولمبو اور لاہور کے درمیان چلنے والی سری لنکن ایئر لائنز کے ذریعے امدادی سامان بھیجنے کا بھی انتظام کیا ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے 200 ٹن امدادی سامان بذریعہ سمندری کھیپ بھی سری لنکا بھیجا تھا۔
بھیجے گئے امدادی سامان میں فیملی ٹینٹ، کمبل، لحاف، لائف جیکٹس، کشتیاں، ڈی واٹرنگ پمپ، لیمپ، چٹائیاں، مچھر دانی، بچوں کا خشک دودھ، کھانے کے لیے تیار کھانا اور ضروری ادویات شامل ہیں۔
پاک بحریہ کے جہاز اور ہیلی کاپٹر پہلے ہی سری لنکا میں امدادی کارروائیوں میں سرگرم ہیں۔
سری لنکا کے صدر کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان سے خصوصی درخواست کے بعد NDMA متاثرہ علاقوں میں بحالی اور رسائی کی کوششوں میں مدد کے لیے پاک فوج سے عارضی پل بھی بھیج رہا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان سری لنکا کے عوام کی انسانی ہمدردی کی حمایت اور علاقائی یکجہتی کے مستقل عزم کے تحت ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے نے سری لنکا کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔