وزیرِاعظم کے ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت اسلام آباد کے معروف اتوار بازار کو مکمل طور پر کیش لیس مارکیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے میں کیش لیس نظام کا آغاز، مسافروں کے لیے ادائیگی کا جدید طریقہ متعارف

اس ہفتے اتوار بازار میں خریداروں اور دکانداروں کے لیے جدید ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات فراہم کردی گئی ہیں جسے ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جانے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اتوار بازار میں پہنچنے پر واضح طور پر گہما گہمی دیکھی گئی۔ زیادہ تر خریدار اور دکاندار اس نئے نظام سے مطمئن نظر آئے، تاہم کئی لوگوں نے کچھ مسائل خصوصاً انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور سگنلز کی کمی کی نشاندہی بھی کی۔

رقم لانے سے ڈر لگتا تھا اب سہولت ہو گئی، عوام کا تبصرہ

خریداروں نے کیش لیس ماحول کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب رقم ساتھ رکھنے کی جھنجھٹ اور چوری کا خطرہ کم ہو گیا ہے جبکہ ادائیگی کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔

ایک نوجوان احمد نے کہا کہ ہم ہر جگہ ڈیجیٹل پیمنٹ استعمال کرتے ہیں اور خوشی ہے کہ اب اتوار بازار بھی جدید معیار پر آ گیا ہے۔

کچھ شکایات

تاہم عوام کی مشترکہ شکایت انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی رہی۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ نیٹ بند ہونے پر ادائیگی رک جاتی ہے، لائنیں لگ جاتی ہیں اور خریداری کا وقت بڑھ جاتا ہے۔

نظام دیا ہے تو فری وائی فائی بھی دیں، عوام کا مطالبہ

عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت نے نظام دیا ہے تو فری وائی فائی بھی ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں سی ڈی اے کے شعبوں میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا فیصلہ

خریداروں کا کہنا تھا کہ کیش لیس نظام کی کامیابی مستحکم انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بازار میں ہجوم کے باعث موبائل نیٹ ورک پر لوڈ بڑھ جاتا ہے جس سے سروس متاثر ہوتی ہے۔

ایک بزرگ شہری نے کہا کہ نظام اچھا ہے مگر جب انٹر نیٹ بیٹھ جائے تو دکاندار اور خریدار دونوں ہی پریشان ہوجاتے ہیں۔

دکانداروں کی رائے کہ حکومت کے اس قدم سے کاروبار میں شفافیت اور آسانی آئی ہے۔

لین دین میں شفافیت آگئی، دکاندار

اتوار بازار کے اکثر دکاندار اس اقدام سے خوش نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حساب کتاب منظم ہو گیا ہے اور خریداروں سے لین دین میں تیزی اور شفافیت آ گئی ہے۔

15 سال سے کپڑوں کا اسٹال لگانے والے شکیل بھائی نے کہا کہ اب نہ بقایا پیسوں کا مسئلہ ہے اور نہ غلط حساب کتاب کا کیوں کہ موبائل پر سب کچھ واضح نظر آتا ہے۔

ایک پھل فروش نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کر رہے ہیں لیکن وہ بھی انٹرنیٹ کی خرابی سے متاثر ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کا کیش لیس آپریشن، پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی نئی سمت

دکانداروں نے بھی حکومت سے فری وائی فائی اور بہتر کنیکٹیویٹی کا مطالبہ دہرایا۔

روایتی ہلچل اور ڈیجیٹل سہولت کا ملاپ

بازار میں ایک طرف روایتی خریداری کی چہل پہل برقرار دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب کیو آر کوڈز، ڈیجیٹل مانیٹرز اور موبائل پیمنٹ اسٹیشنز نے ماحول کو جدید رنگ دے دیا ہے۔

اس مرتبہ خریداروں کی مدد کے لیے انتظامیہ کا خصوصی عملہ موجود تھا جو ایپس اور ادائیگی کے مراحل میں رہنمائی کر رہا تھا۔

حکومتی مؤقف

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد عام آدمی کی زندگی آسان بنانا ہے اور دوسری جانب کیش لیس مارکیٹس سے کرپشن کم ہوگی اور معیشت میں شفافیت بھی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی رائے کو سامنے رکھ کر انٹرنیٹ کے مسائل بھی حل کیے جائیں گے۔

عوام اور دکانداروں کی مشترکہ رائے

اس تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ لوگ ڈیجیٹل نظام اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ شہری بھی اس تبدیلی کو سراہ رہے ہیں۔ تاہم مضبوط انٹرنیٹ کے بغیر یہ نظام اپنی مکمل افادیت حاصل نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں سی ڈی اے کے شعبوں میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا فیصلہ

اگر یہ ماڈل کامیابی سے جاری رہا تو مستقبل میں مزید مارکیٹیں اور عوامی مقامات ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام سے آراستہ کیے جا سکیں گے اور یوں پاکستان حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ سکے گا۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اتوار بازار اتوار بازار ڈیجیٹل ہوگیا اتوار بازار میں کیش لیس کاروبار اسلام آباد اتوار بازار سنڈے بازار کیش لیس نظام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتوار بازار اتوار بازار میں کیش لیس کاروبار اسلام ا باد اتوار بازار سنڈے بازار کیش لیس نظام کیش لیس نظام اتوار بازار اور دکاندار میں کیش لیس نے کہا کہ کا کہنا دیا ہے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی