اسلام آباد کا اتوار بازار ڈیجیٹل ہوگیا: کیش لیس نظام رائج، عوام اور دکاندار مزید بہتری کے خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
وزیرِاعظم کے ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت اسلام آباد کے معروف اتوار بازار کو مکمل طور پر کیش لیس مارکیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے میں کیش لیس نظام کا آغاز، مسافروں کے لیے ادائیگی کا جدید طریقہ متعارف
اس ہفتے اتوار بازار میں خریداروں اور دکانداروں کے لیے جدید ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات فراہم کردی گئی ہیں جسے ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جانے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اتوار بازار میں پہنچنے پر واضح طور پر گہما گہمی دیکھی گئی۔ زیادہ تر خریدار اور دکاندار اس نئے نظام سے مطمئن نظر آئے، تاہم کئی لوگوں نے کچھ مسائل خصوصاً انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور سگنلز کی کمی کی نشاندہی بھی کی۔
رقم لانے سے ڈر لگتا تھا اب سہولت ہو گئی، عوام کا تبصرہخریداروں نے کیش لیس ماحول کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب رقم ساتھ رکھنے کی جھنجھٹ اور چوری کا خطرہ کم ہو گیا ہے جبکہ ادائیگی کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
ایک نوجوان احمد نے کہا کہ ہم ہر جگہ ڈیجیٹل پیمنٹ استعمال کرتے ہیں اور خوشی ہے کہ اب اتوار بازار بھی جدید معیار پر آ گیا ہے۔
کچھ شکایاتتاہم عوام کی مشترکہ شکایت انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی رہی۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ نیٹ بند ہونے پر ادائیگی رک جاتی ہے، لائنیں لگ جاتی ہیں اور خریداری کا وقت بڑھ جاتا ہے۔
نظام دیا ہے تو فری وائی فائی بھی دیں، عوام کا مطالبہعوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت نے نظام دیا ہے تو فری وائی فائی بھی ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد میں سی ڈی اے کے شعبوں میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا فیصلہ
خریداروں کا کہنا تھا کہ کیش لیس نظام کی کامیابی مستحکم انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ بازار میں ہجوم کے باعث موبائل نیٹ ورک پر لوڈ بڑھ جاتا ہے جس سے سروس متاثر ہوتی ہے۔
ایک بزرگ شہری نے کہا کہ نظام اچھا ہے مگر جب انٹر نیٹ بیٹھ جائے تو دکاندار اور خریدار دونوں ہی پریشان ہوجاتے ہیں۔
دکانداروں کی رائے کہ حکومت کے اس قدم سے کاروبار میں شفافیت اور آسانی آئی ہے۔
لین دین میں شفافیت آگئی، دکانداراتوار بازار کے اکثر دکاندار اس اقدام سے خوش نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حساب کتاب منظم ہو گیا ہے اور خریداروں سے لین دین میں تیزی اور شفافیت آ گئی ہے۔
15 سال سے کپڑوں کا اسٹال لگانے والے شکیل بھائی نے کہا کہ اب نہ بقایا پیسوں کا مسئلہ ہے اور نہ غلط حساب کتاب کا کیوں کہ موبائل پر سب کچھ واضح نظر آتا ہے۔
ایک پھل فروش نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کر رہے ہیں لیکن وہ بھی انٹرنیٹ کی خرابی سے متاثر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کا کیش لیس آپریشن، پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی نئی سمت
دکانداروں نے بھی حکومت سے فری وائی فائی اور بہتر کنیکٹیویٹی کا مطالبہ دہرایا۔
روایتی ہلچل اور ڈیجیٹل سہولت کا ملاپبازار میں ایک طرف روایتی خریداری کی چہل پہل برقرار دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب کیو آر کوڈز، ڈیجیٹل مانیٹرز اور موبائل پیمنٹ اسٹیشنز نے ماحول کو جدید رنگ دے دیا ہے۔
اس مرتبہ خریداروں کی مدد کے لیے انتظامیہ کا خصوصی عملہ موجود تھا جو ایپس اور ادائیگی کے مراحل میں رہنمائی کر رہا تھا۔
حکومتی مؤقفحکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد عام آدمی کی زندگی آسان بنانا ہے اور دوسری جانب کیش لیس مارکیٹس سے کرپشن کم ہوگی اور معیشت میں شفافیت بھی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی رائے کو سامنے رکھ کر انٹرنیٹ کے مسائل بھی حل کیے جائیں گے۔
عوام اور دکانداروں کی مشترکہ رائےاس تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ لوگ ڈیجیٹل نظام اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ شہری بھی اس تبدیلی کو سراہ رہے ہیں۔ تاہم مضبوط انٹرنیٹ کے بغیر یہ نظام اپنی مکمل افادیت حاصل نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں سی ڈی اے کے شعبوں میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا فیصلہ
اگر یہ ماڈل کامیابی سے جاری رہا تو مستقبل میں مزید مارکیٹیں اور عوامی مقامات ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام سے آراستہ کیے جا سکیں گے اور یوں پاکستان حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ سکے گا۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتوار بازار اتوار بازار ڈیجیٹل ہوگیا اتوار بازار میں کیش لیس کاروبار اسلام آباد اتوار بازار سنڈے بازار کیش لیس نظام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتوار بازار اتوار بازار میں کیش لیس کاروبار اسلام ا باد اتوار بازار سنڈے بازار کیش لیس نظام کیش لیس نظام اتوار بازار اور دکاندار میں کیش لیس نے کہا کہ کا کہنا دیا ہے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔