پاکستان کے بعد افغانستان کا ایک اور ہمسایہ تاجکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کی وجہ سے پریشان ہے۔ ایک روز قبل 5 تاجک شہری جبکہ اس سے چند روز پہلے ہی تاجکستان میں 3 چینی شہری بھی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں ہلاک ہوئے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، اِس سلسلے میں سب سے مؤثر کردار علاقائی ممالک کا ہے جن میں پاکستان، ایران، چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، یہ ممالک مل کر اِس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟

ایک روز قبل افغان سرزمین سے ہونے والے حملے میں تاجکستان کے 5 شہری جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے ایک بیان میں افغان شہریوں کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی سخت مذمت کی اور اس مسئلے کے حل اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بارڈر سیکیورٹی سخت کرنے کے حوالے سے سکیورٹی اجلاس بھی طلب کیا۔

اس واقعے سے کچھ روز قبل 28 نومبر کو تاجکستان میں افغان سرزمین سے ایک حملہ ہوا جس میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے جس پر چین نے اظہارِ مذمت اور واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

27 نومبر کو ایرانی سپریم لیڈر کے خصوصی نمائندے علی لاریجانی نے پاکستان آمد کے بعد پاکستان کے ساتھ مل کر انسداد دہشتگردی کے حوالے سے کام کرنے کے لیے مثبت انداز میں بات چیت کی۔

علاقائی طاقتیں خصوصاً پاکستان، چین، روس اور ایران اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ان ممالک نے حال ہی میں مشترکہ طور پر اس امر پر زور دیا ہے کہ افغانستان کو دہشتگردی کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

ان کے مطابق ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے، داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروہ نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بھی بنتے ہیں۔

’طالبان حکومت دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے‘

ان ممالک کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ طالبان حکومت دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، ان کے کیمپ بند کرے، مالی معاونت روکے، اسلحے کی ترسیل ختم کرے اور سرحد پار حملوں کی روک تھام کو یقینی بنائے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد 2593 میں واضح طور پر طالبان حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دے۔

بین الاقوامی انسداد دہشتگردی ادارے بھی اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرحد پار سرگرمیوں کی صلاحیت خطے اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

علاقائی ممالک کو اپنے خصوصی نمائندے افغانستان بھجوانے چاہییں، سفارتکار مسعود خالد

پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے واضح طور پر اپنا مؤقف بیان کردیا ہے کہ اُس کی افغان عوام کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں بلکہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کو روکنا چاہتا ہے اور صرف اِس بات کی افغان طالبان رجیم سے گارنٹی لینے میں بہت بڑی مُشکلات پیش آ رہی ہیں اور کامیابی نہیں مل رہی۔

انہوں نے کہاکہ اِس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ افغان طالبان پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور اب اِس معاملے کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

مسعود خالد نے کہاکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف تمام علاقائی ممالک کا نقطہ نظر پاکستان سے ہم آہنگ ہے پاکستان کو اِس چیز پر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور تمام علاقائی ممالک کو اِس بات پر آنا چاہیے کہ وہ مل کر افغان طالبان رجیم پر دباؤ ڈالیں کہ وہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کو کنٹرول کریں۔

علاقائی ممالک کس طرح اور کس فورم سے یہ کردار ادا کر سکتے ہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے سفارتکار مسعود خالد نے کہاکہ تمام علاقائی ممالک کو اپنے خصوصی نمائندے افغان طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے بھجوانے چاہییں۔

پاکستان علاقائی طاقتوں کے ساتھ مل کر قیام امن کے لیے کاوشیں جاری رکھے گا، محمد صادق

پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان چین، تاجکستان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہمارے مشترکہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اس سے قبل 8 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ مذاکرات میں سفارتکار محمد صادق نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خاتمے کے لیے فوری اور مشترکہ علاقائی کوششیں ضروری ہیں۔

انہوں نے یہ بات ماسکو فارمیٹ کنسلٹیشنز آن افغانستان کے اجلاس میں کہی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں افغان قومی مفاہمت، افغانستان کے ساتھ سیاسی و اقتصادی شعبوں میں علاقائی تعاون، دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور انسداد منشیات تعاون جیسے امور شامل تھے۔

محمد صادق نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہاکہ پاکستان نے ایک پُرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان کے لیے اپنی غیر متزلزل کمٹمنٹ کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف

انہوں نے کہاکہ میں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے لیے فوری اور مشترکہ علاقائی اقدامات ضروری ہیں۔

’میں نے سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ انسداد دہشتگردی اور انسدادِ منشیات کے تعاون میں اضافے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews افغانستان انسداد دہشتگردی پاکستان دہشتگردی سفارتکار وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان انسداد دہشتگردی پاکستان دہشتگردی سفارتکار وی نیوز دہشتگردی کے خلاف انسداد دہشتگردی علاقائی ممالک افغان طالبان طالبان حکومت افغانستان کے پاکستان کے مسعود خالد انہوں نے کہ افغان نے کہاکہ س بات پر کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔

        View this post on Instagram                      

قومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔

اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار