افغان مسئلے کے حل کی چابی علاقائی ممالک کے پاس ہے: سفارتی ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پاکستان کے بعد افغانستان کا ایک اور ہمسایہ تاجکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کی وجہ سے پریشان ہے۔ ایک روز قبل 5 تاجک شہری جبکہ اس سے چند روز پہلے ہی تاجکستان میں 3 چینی شہری بھی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں ہلاک ہوئے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، اِس سلسلے میں سب سے مؤثر کردار علاقائی ممالک کا ہے جن میں پاکستان، ایران، چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، یہ ممالک مل کر اِس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟
ایک روز قبل افغان سرزمین سے ہونے والے حملے میں تاجکستان کے 5 شہری جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے ایک بیان میں افغان شہریوں کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی سخت مذمت کی اور اس مسئلے کے حل اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بارڈر سیکیورٹی سخت کرنے کے حوالے سے سکیورٹی اجلاس بھی طلب کیا۔
اس واقعے سے کچھ روز قبل 28 نومبر کو تاجکستان میں افغان سرزمین سے ایک حملہ ہوا جس میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے جس پر چین نے اظہارِ مذمت اور واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
27 نومبر کو ایرانی سپریم لیڈر کے خصوصی نمائندے علی لاریجانی نے پاکستان آمد کے بعد پاکستان کے ساتھ مل کر انسداد دہشتگردی کے حوالے سے کام کرنے کے لیے مثبت انداز میں بات چیت کی۔
علاقائی طاقتیں خصوصاً پاکستان، چین، روس اور ایران اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ان ممالک نے حال ہی میں مشترکہ طور پر اس امر پر زور دیا ہے کہ افغانستان کو دہشتگردی کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
ان کے مطابق ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے، داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروہ نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بھی بنتے ہیں۔
’طالبان حکومت دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے‘ان ممالک کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ طالبان حکومت دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، ان کے کیمپ بند کرے، مالی معاونت روکے، اسلحے کی ترسیل ختم کرے اور سرحد پار حملوں کی روک تھام کو یقینی بنائے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد 2593 میں واضح طور پر طالبان حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دے۔
بین الاقوامی انسداد دہشتگردی ادارے بھی اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرحد پار سرگرمیوں کی صلاحیت خطے اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
علاقائی ممالک کو اپنے خصوصی نمائندے افغانستان بھجوانے چاہییں، سفارتکار مسعود خالدپاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے واضح طور پر اپنا مؤقف بیان کردیا ہے کہ اُس کی افغان عوام کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں بلکہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کو روکنا چاہتا ہے اور صرف اِس بات کی افغان طالبان رجیم سے گارنٹی لینے میں بہت بڑی مُشکلات پیش آ رہی ہیں اور کامیابی نہیں مل رہی۔
انہوں نے کہاکہ اِس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ افغان طالبان پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور اب اِس معاملے کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
مسعود خالد نے کہاکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف تمام علاقائی ممالک کا نقطہ نظر پاکستان سے ہم آہنگ ہے پاکستان کو اِس چیز پر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور تمام علاقائی ممالک کو اِس بات پر آنا چاہیے کہ وہ مل کر افغان طالبان رجیم پر دباؤ ڈالیں کہ وہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کو کنٹرول کریں۔
علاقائی ممالک کس طرح اور کس فورم سے یہ کردار ادا کر سکتے ہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے سفارتکار مسعود خالد نے کہاکہ تمام علاقائی ممالک کو اپنے خصوصی نمائندے افغان طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے بھجوانے چاہییں۔
پاکستان علاقائی طاقتوں کے ساتھ مل کر قیام امن کے لیے کاوشیں جاری رکھے گا، محمد صادقپاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان چین، تاجکستان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہمارے مشترکہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اس سے قبل 8 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ مذاکرات میں سفارتکار محمد صادق نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خاتمے کے لیے فوری اور مشترکہ علاقائی کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے یہ بات ماسکو فارمیٹ کنسلٹیشنز آن افغانستان کے اجلاس میں کہی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں افغان قومی مفاہمت، افغانستان کے ساتھ سیاسی و اقتصادی شعبوں میں علاقائی تعاون، دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور انسداد منشیات تعاون جیسے امور شامل تھے۔
محمد صادق نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہاکہ پاکستان نے ایک پُرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان کے لیے اپنی غیر متزلزل کمٹمنٹ کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
انہوں نے کہاکہ میں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے لیے فوری اور مشترکہ علاقائی اقدامات ضروری ہیں۔
’میں نے سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ انسداد دہشتگردی اور انسدادِ منشیات کے تعاون میں اضافے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغانستان انسداد دہشتگردی پاکستان دہشتگردی سفارتکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان انسداد دہشتگردی پاکستان دہشتگردی سفارتکار وی نیوز دہشتگردی کے خلاف انسداد دہشتگردی علاقائی ممالک افغان طالبان طالبان حکومت افغانستان کے پاکستان کے مسعود خالد انہوں نے کہ افغان نے کہاکہ س بات پر کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز