دہشتگردی کو شکست دیکر ہر حال میں امن بحال کرینگے، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پولیس فورس اور سول افسران کے مشترکہ دربار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی کا کہنا تھا موجودہ حالات غیر معمولی ہیں، خیبرپختونخوا 4 دہائیوں سے دہشتگردی کی زد میں ہے، پولیس نے کم وسائل کے باوجود 21 سال دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، دہشتگردی کے خلاف قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے ایمان، حوصلے اور عزم سے دہشتگردی کو شکست دیکر صوبے میں ہر حال میں امن بحال کریں گے۔ پولیس فورس اور سول افسران کے مشترکہ دربار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی کا کہنا تھا موجودہ حالات غیر معمولی ہیں، خیبر پختونخوا 4 دہائیوں سے دہشتگردی کی زد میں ہے، پولیس نے کم وسائل کے باوجود 21 سال دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، دہشتگردی کے خلاف قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا جس جوانمردی سے پولیس دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے، اللہ تعالی کی رضا اور عوام کے مفاد کیلئے لڑیں گے توجیت ہماری ہوگی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا میں ہر حال میں امن بحال کریں گے، پولیس کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ اور اینٹی ڈرون سسٹم فراہم کیا جا رہا ہے، پولیس کو ہنگامی بنیادوں پر جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جا رہا ہے، وسائل کی کمی کو سکیورٹی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے، ایمان، حوصلے اور عزم سے دہشت گردی کو شکست دیں گے۔ ان کا کہنا تھا افسران کے معاملات میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہو گی مگر رزلٹ دینا ہو گا، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے، کسی کو کوئی رعایت نہیں ہو گی، سرکاری افسران کی کارکردگی پرفارمنس انڈیکیٹرز سے ناپی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا جن لوگوں کا کام انصاف دینا ہوتا ہے وہ نہیں دے پاتے جس سے چیزیں خراب ہوتی ہیں، ہم نےبانی پی ٹی آئی کےوژن کےمطابق عوام کو ریلیف دینا ہے، ہم نے عوام کیلئےہی فیصلہ سازی کرنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کا کہنا کا کہنا تھا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔