امریکہ (ویب ڈیسک) ملی سائرس کی منگنی نے صرف مداحوں کو خوش ہی نہیں کیا بلکہ ان کی قیمتی انگوٹھی نے سب کو حیران بھی کردیا ہے۔ ریڈ کارپٹ پر پہلی جھلک کے بعد جیولری ماہرین انگوٹھی کی قیمت کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں، اور اندازے واقعی چونکا دینے والے ہیں۔

ملی کی انگوٹھی ڈیزائنر جیکی آئیش نے تیار کی ہے۔ یہ روایتی مگر دلکش ڈیزائن ہے جس میں ایک کُشن کٹ ہیرے کو ’’چنکی‘‘ 14 کیرٹ سونے کی انگوٹھی میں جَڑا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق انگوٹھی میں لگے ہیرے کا ایسٹ ویسٹ سیٹ انداز اور تقریباً 1.

3 ریشو اسے انتہائی قیمتی بناتے ہیں۔ ہارپرز بازار نے اس کی قیمت 75 ہزار سے 150 ہزار ڈالر (تقریباً چار کروڑ تئیس لاکھ پاکستانی روپے) تک بتائی ہے۔

لیکن کچھ جیولری ایکسپرٹس نے مزید بڑا دعویٰ کیا ہے، ان کے مطابق اگر مرکزی پتھر واقعی 4 سے 5 کیرٹ کا ہے تو انگوٹھی کی قیمت چار لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر تک ہوسکتی ہے!

یعنی صرف انگوٹھی کی قیمت ہی پاکستانی کرنسی میں بارہ کروڑ اکہتر لاکھ روپے بنتی ہے۔

ملی سائرس کے مداح اس نئی محبت بھری شروعات پر خوش ہیں، مگر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز اب بھی وہی ہے، انگوٹھی کتنی مہنگی ہے!

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انگوٹھی کی قیمت

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ