پاکستان کا انسانی بنیادوں پر اقوام متحدہ کےکنٹینرز کیلئے طورخم اور چمن بارڈرکھولنےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی وزارت تجارت نے انسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت خارجہ سے مشاورت کے بعد یہ اقدام پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ 50 روز سے تجارتی گزرگاہیں بند ہونےکے نتیجے میں افغانستان میں غذائی اشیاء اور ادویات کی قلت کے باعث اٹھایا گیا ہے تاکہ افغان عوام کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ وفاقی وزارت تجارت نے ممبرکسٹمز (آپریشنز) ایف بی آر اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی ایف بی آر کو لیٹر ارسال کیا ہے جس میں گزارش کی گئی ہےکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے بھیجے جانے والے کارگو کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کریں۔
ملک کے بیرونی قرضوں میں کمی ؛ گورنر اسٹیٹ بینک کا بڑا انکشاف
لیٹر کے مطابق وزارت خارجہ کی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا ہےکہ یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ کے کنٹینرز کی مرحلہ وار کلیئرنس کی جائے۔ پہلے مرحلے میں افغانستان خوراک کا سامان لے جانے والے کنٹینرز جب کہ دوسرے مرحلے میں ادویات اور طبی آلات لے جانے والے کنٹینرز کو کلیرنس دی جائےگی۔ تیسرے مرحلے میں دیگر ضروری اشیاء (طلبہ اور اساتذہ کے لیے کِٹ وغیرہ) کےکنٹینرز کو کلیئرکرنا ہوگا۔
گٹر میں گر کر بچے کی وفات؛ تمام اعلیٰ افسروں کو سخت سزا مل گئی، حیران کن پیش رفت
اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے درخواست کی گئی ہےکہ ان کنٹینرز کی کلیئرنس اور آگے ترسیل کے لیے ضروری کارروائی کریں تاکہ یہ کنٹینرز چمن اور طورخم کے راستے بھیجے جاسکیں۔ واضح رہےکہ افغانستان کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر 12 اکتوبر 2025 سے تمام تجارتی گزرگاہیں ہرقسم کی آمدورفت کے لیے بند ہیں۔
ایپل کا نیا آئی فون 17 لانچ کرنے کی تیاری ؛ خصوصیات سامنے آگئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔