IMF کرپشن رپورٹ: ذمہ داروں کیخلاف عدم کارروائی، سینیٹ کمیٹی برہم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) سینیٹ خزانہ کمیٹی نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس سے متعلق آئی ایم ایف کی رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کردی اور اظہار برہمی کرتے ہوئے پوچھا کہ کرپٹ اداروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اراکین نے آئی ایم ایف کی پاکستان میں بہت بڑی کرپشن سے متعلق رپورٹ پر بحث کی، اراکین نے رپورٹ میں بتائے گئے مختلف شعبوں میں سامنے آنے والے بڑے کرپشن اسکینڈلز پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اراکین کمیٹی نے ایس آئی ایف سی کی کارکردگی، معاہدوں کے فقدان اور ملکی معاشی صورتحال پر بھی سخت تنقید کی۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ملک میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے، جن اداروں کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے کیا ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی؟
وزارت خزانہ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ حکومت نے 2024ء میں آئی ایم ایف کو گورننس میں بہتری کیلئے مدد میں درخواست دی اور حکومت نے رپورٹ کی سفارشات کی روشنی ایکشن پلان بنانے پر رضامندی ظاہر کی، رپورٹ جون 2025ء میں ملنا تھی مگر تاخیر سے ملی وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ پر مشاورت کی آئی ایم ایف کو کچھ تبدیلیاں کرنے کو کہا گیا وزیراعظم کی منظوری کے بعد رپورٹ کو وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی سلیم ایچ مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ کیا وزارت خزانہ اس رپورٹ پر متفق ہے جس پر وزارت خزانہ نے بتایا کہ وزارت خزانہ اس رپورٹ سے متفق ہے۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال اٹھایا کہ کیا وزارت خزانہ رپورٹ میں مس مینجمنٹ، خراب گورننس اور کرپشن کے الزامات کو تسلیم کرتی ہے؟ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ کیا وزارت خزانہ تسلیم کرتی ہے کہ 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے وزارت خزانہ اس پر کیا ایکشن لے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف رپورٹ پر
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت