data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد :سبزیوں میں پائی جانے والی پھلیاں  نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہوتی ہیں بلکہ صحت کے لیے بے شمار فوائد بھی رکھتی ہیں، پھلیاں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور منرلز کا بہترین ذریعہ ہیں، جو روزانہ کی خوراک میں شامل کرنے سے متعدد بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہےکہ پھلیوں میں موجود فائبر نظام ہضم کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے اور قبض کے مسائل کو کم کرتا ہے،  یہ خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ پروٹین کی وافر مقدار کی وجہ سے یہ پٹھوں کی مضبوطی اور جسمانی توانائی کے لیے انتہائی مفید ہیں۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلیوں میں موجود فولاد (Iron) اور کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط رکھنے اور اینیمیا کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔ علاوہ ازیں، وٹامن بی گروپ کی موجودگی دماغی صحت کو بہتر بنانے اور یادداشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

پھلیاں دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور موٹاپے کے خطرات کو کم کرنے میں بھی معاون ہیں، کیونکہ یہ کم کیلوریز اور زیادہ غذائی اجزاء فراہم کرتی ہیں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ خوراک میں پھلیوں کو شامل کیا جائے، چاہے وہ سالن میں ہوں، سلاد میں یا دیگر سبزیوں کے ساتھ پکائی جائیں، تاکہ صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ پھلیاں نہ صرف سستی اور دستیاب ہیں بلکہ روزانہ استعمال سے صحت میں بہتری محسوس کی جا سکتی ہے اور یہ ہر گھر کی ضروری غذا میں شامل ہونی چاہئیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان