کویت سے بھارت جانے والی پرواز کو بم سے اڑانے کی دھمکی پر ہنگامی لینڈنگ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کویت سے حیدر آباد (بھارت) روانہ ہونے والی ایک پرواز میں اس وقت شدید افراتفری پھیل گئی جب دورانِ پرواز بم کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انڈیگو کی پرواز نے معمول کے مطابق اُڑان بھری، تاہم جیسے ہی ایئرلائن کے حکام کو ای میل کے ذریعے یہ خبر ملی کہ جہاز میں دھماکا خیز مواد موجود ہے اور اسے اُڑا دینے کی دھمکی دی گئی ہے، فوراً ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
طیارے کے اندر مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کیپٹن نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے جہاز کو حیدر آباد کے بجائے قریبی ممبئی ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا جہاں پہلے ہی ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا تھا۔
ممبئی ایئرپورٹ حکام نے طیارے کے لینڈنگ سے قبل ہی حفاظتی اقدامات سخت کرتے ہوئے رن وے کو خالی کرا لیا اور سیکورٹی ٹیموں کو الرٹ کردیا۔ طیارہ جیسے ہی زمین پر اترا، اسے ہوائی اڈے کے ایک دور دراز حصے میں منتقل کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
مسافروں کو طیارے سے اتار کر ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سیکورٹی اداروں نے جہاز کی مکمل چیکنگ شروع کردی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاشی میں نہ تو جہاز سے کوئی مشتبہ شے برآمد ہوئی اور نہ ہی کسی مسافر کے سامان سے بارودی مواد ملا، جس کے بعد 3 گھنٹے کی تاخیر سے پرواز کو دوبارہ روانگی کی اجازت دے دی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد ایک بار پھر یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف ایئرپورٹس اور ایئرلائنز کو بڑی تعداد میں بم دھماکوں کی جعلی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔
بھارتی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ گیارہ ماہ میں مجموعی طور پر 999 جعلی بم کالز مختلف ہوائی کمپنیوں اور ایئرپورٹس کو موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے اکثر نے ایوی ایشن نظام کو شدید متاثر کیا اور ایمرجنسی اقدامات پر مجبور کیا۔
گزشتہ سال بھارت کی سول ایوی ایشن سیکورٹی نے تجویز پیش کی تھی کہ ایسے جھوٹے دھمکی آمیز پیغامات دینے والے افراد پر 5 سالہ فضائی پابندی عائد کی جائے تاکہ ان واقعات میں کمی لائی جا سکے، تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی سخت تجاویز کے باوجود دھمکیوں کا سلسلہ پوری طرح ختم نہیں ہوا اور صرف چند لمحوں کی بے بنیاد ای میل یا کال پورے ہوائی سفر کو مفلوج کر دینے کا سبب بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی دھمکیاں نہ صرف فلائٹ آپریشنز میں خلل ڈالتی ہیں بلکہ مسافروں کے اعتماد کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں، جس سے ایوی ایشن سیکٹر پر پہلے سے موجود دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔