پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں شہریوں پر ٹیکس کا بوجھ کتنا ہے؟ جانیے!
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر شہریوں سے کتنا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئیں۔
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں شامل ٹیکسوں کی تفصیلات کے مطابق عام شہری ہر لیٹر ایندھن پر بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ میں پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت کا تقریباً 37 فیصد حصہ صرف ٹیکسز پر مشتمل ہے، جس سے مجموعی لاگت میں واضح اضافہ ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 96 روپے 28 پیسے ٹیکس کی صورت میں شامل ہیں جن میں کسٹم ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی جیسی مدات شامل ہیں۔
اسی طرح ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں بھی 34 فیصد یعنی 94 روپے 92 پیسے ٹیکس کی مد میں شامل کیے جاتے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ڈیزل پر بھی وہی ٹیکس اقسام لاگو ہیں جو پیٹرول پر عائد ہوتی ہیں اور ان کا مجموعی اثر صارفین کی جیب پر براہِ راست پڑتا ہے، جس سے نقل و حمل سمیت دیگر شعبوں کی لاگت بھی متاثر ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیزل کی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔