اس سال دنیا بھر میں گوگل پر کس موضوع کو سب سے زیادہ سرچ کیا گیا؟ نام حیران کر دے گا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل ہر سال ایک رپورٹ جاری کرتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ سال بھر کن موضوعات، شخصیات اور واقعات کو دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین نے سب سے زیادہ تلاش کیا۔
اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ کس چیز کے بارے میں تجسس رکھتے تھے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے کن عنوانات کی طرف گئے۔
اس سال بھی متعدد موضوعات نے عالمی سطح پر لوگوں کی توجہ حاصل کی، جن میں گرم شہد (ہاٹ ہنی)، اے آئی چیٹ بوٹس اور دیگر ٹرینڈز شامل رہے۔ مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ گوگل کی یہ فہرست مقبول ترین سرچز نہیں ہوتی، ورنہ “ویڈر” جیسی عام اصطلاحات ہمیشہ سرفہرست ہوتیں۔ یہ رپورٹ ان عنوانات پر مبنی ہوتی ہے جن کی سرچ ٹریفک میں پچھلے سال یعنی 2024 کے مقابلے میں 2025 میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اس سال دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹرینڈ کرنے والی سرچ جیمنائی رہی، یعنی گوگل کا اے آئی چیٹ بوٹ جس کے بارے میں لوگوں نے سب سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بھارت بمقابلہ انگلینڈ اور Charlie Kirk نے دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اے آئی کے میدان میں جیمنائی واحد نام نہیں تھا، بلکہ ڈیپ سیک بھی اس سال ٹرینڈنگ سرچز میں ساتویں نمبر پر رہا، جبکہ پاکستان بمقابلہ بھارت دسویں نمبر پر شامل رہا۔
خبروں کی کیٹیگری میں سب سے زیادہ ٹرینڈ کرنے والی سرچ Charlie Kirk کے قتل سے متعلق رہی، جبکہ ایران اور یو ایس گورنمنٹ شٹ ڈاؤن دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
کھانوں اور ریسیپیز میں ہاٹ ہنی نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی، اس کے بعد میری می چکن اور چیمی چوری نے جگہ حاصل کی۔
فلموں میں سب سے زیادہ ٹرینڈ ہونے والی Anora رہی، اس کے بعد Superman اور Minecraft Movie شامل رہیں۔
اداکاروں میں Anora کی اداکارہ میکی میڈیسن سب سے زیادہ سرچ کی گئیں، جبکہ لوئس پل مین دوسرے اور Isabela Merced تیسرے نمبر پر رہیں۔
کھیلوں میں فیفا کلب ورلڈ کپ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، اس کے بعد ایشیا کپ اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ٹرینڈ میں رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سب سے زیادہ اس کے بعد حاصل کی اس سال
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔