data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گوگل ہر سال ایک رپورٹ جاری کرتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ سال بھر کن موضوعات، شخصیات اور واقعات کو دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین نے سب سے زیادہ تلاش کیا۔

اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ کس چیز کے بارے میں تجسس رکھتے تھے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے کن عنوانات کی طرف گئے۔

اس سال بھی متعدد موضوعات نے عالمی سطح پر لوگوں کی توجہ حاصل کی، جن میں گرم شہد (ہاٹ ہنی)، اے آئی چیٹ بوٹس اور دیگر ٹرینڈز شامل رہے۔ مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ گوگل کی یہ فہرست مقبول ترین سرچز نہیں ہوتی، ورنہ “ویڈر” جیسی عام اصطلاحات ہمیشہ سرفہرست ہوتیں۔ یہ رپورٹ ان عنوانات پر مبنی ہوتی ہے جن کی سرچ ٹریفک میں پچھلے سال یعنی 2024 کے مقابلے میں 2025 میں نمایاں اضافہ ہوا۔

اس سال دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹرینڈ کرنے والی سرچ جیمنائی رہی، یعنی گوگل کا اے آئی چیٹ بوٹ جس کے بارے میں لوگوں نے سب سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بھارت بمقابلہ انگلینڈ اور Charlie Kirk نے دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔

اے آئی کے میدان میں جیمنائی واحد نام نہیں تھا، بلکہ ڈیپ سیک بھی اس سال ٹرینڈنگ سرچز میں ساتویں نمبر پر رہا، جبکہ پاکستان بمقابلہ بھارت دسویں نمبر پر شامل رہا۔

خبروں کی کیٹیگری میں سب سے زیادہ ٹرینڈ کرنے والی سرچ Charlie Kirk کے قتل سے متعلق رہی، جبکہ ایران اور یو ایس گورنمنٹ شٹ ڈاؤن دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

کھانوں اور ریسیپیز میں ہاٹ ہنی نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی، اس کے بعد میری می چکن اور چیمی چوری نے جگہ حاصل کی۔

فلموں میں سب سے زیادہ ٹرینڈ ہونے والی Anora رہی، اس کے بعد Superman اور Minecraft Movie شامل رہیں۔

اداکاروں میں Anora کی اداکارہ میکی میڈیسن سب سے زیادہ سرچ کی گئیں، جبکہ لوئس پل مین دوسرے اور Isabela Merced تیسرے نمبر پر رہیں۔

کھیلوں میں فیفا کلب ورلڈ کپ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، اس کے بعد ایشیا کپ اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ٹرینڈ میں رہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سب سے زیادہ اس کے بعد حاصل کی اس سال

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ