Jasarat News:
2026-06-03@05:17:24 GMT

مقصودِ حقیقی صرف فلاح اخروی

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

۔۔۔ایک اور چیز جو انبیاء علیہم السلام کے طریق کار کو عام اہل دنیا کے طریقہ ہائے کار سے نمایاں کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی تمام جدوجہد میں مطلوب و مقصود کی حیثیت صرف خدا کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس چیز کے سوا کوئی اور چیز ان کے پیش نظر نہیں ہوتی۔ اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی جدوجہد کی کامیابی سے اللہ کے دین کو اور دین کے لیے کام کرنے والوں کو دنیا میں بھی غلبہ اور تفوق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس بات کی دعوت کبھی نہیں دیتے کہ آؤ حکومت الٰہیہ قائم کرو یا اقتدار حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ بلکہ دعوت صرف اللہ کے دین پر چلنے اور اس پر چلانے ہی کی دیتے ہیں۔ اس لیے کہ آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے خدا کے دین پر چلنا اور اسی پر دوسروں کو بھی چلنے کی دعوت دینا شرط ضروری ہے۔

اس کے برعکس اہل سیاست کی ساری تگ و دو کا مقصود اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ وہ اسی اقتدار کے حصول کے لیے اپنی تنظیم کرتے ہیں، اور اسی کے لیے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ یہ مقصود ایک خاص دنیوی مقصود ہے لیکن بعض لوگ اس پر دین کا ملمع کر کے اس چیز کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ یہ اقتدار اپنے لیے نہیں چاہتے بلکہ خدا کے لیے یا اس کے دین کے لیے چاہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ ان کی نیتوں پر شبہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ خدا ہی کے لیے استعمال کریں، لیکن اس سے جدوجہد کا نصب العین بالکل تبدیل ہو جاتا ہے اور اس نصب العین کی تبدیلی کا جدوجہد کی مزاجی خصوصیات پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ سچ پوچھیے تو یہ نصب العین کی تبدیلی سارے کام ہی کو بالکل درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔

ہم جس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ اچھی طرح واضح اس طرح ہوتی ہے کہ اہل سیاست جس دنیوی اقتدار کے حصول کو تمام خیر وفلاح کا ضامن سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ دین کی خدمت کا کوئی کام بھی ان کے نزدیک اس وقت تک انجام ہی نہیں دیا جا سکتا جب تک اقتدار حاصل نہ ہو جائے۔ اس اقتدار کو انبیاء علیہم السلام نے اس نصب العین کے لیے نہایت خطرناک سمجھا ہے جس کے داعی وہ خود رہے ہیں۔ چنانچہ متعدد احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپؐ نے صحابہؓ کو اس بات سے آگاہ فرمایا کہ میں تمہارے لیے فقر و غربت سے نہیں ڈرتا بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا کی عزت و ثروت تمہیں حاصل ہوگی اور تم اس کے انہماک میں اصل نصب العین یعنی آخرت کو بھول جاؤ گے۔ آپ کا ارشاد ہے، خدا کی قسم میں تمہارے لیے فقر سے نہیں ڈرتا، بلکہ جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ دنیا جس طرح تم سے پہلے والوں کے لیے کھول دی گئی، اسی طرح تمہارے لیے بھی کھول دی جائے گی، پھر جس طرح وہ اس کی بھاگ دوڑ میں مصروف ہوگئے، اسی طرح تم بھی اس کے لیے بھاگ دوڑ میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ پھر یہ تمہیں بھی اسی طرح ہلاک کر چھوڑے گی جس طرح اس نے تمہارے پہلوں کو ہلاک کر چھوڑا۔

مذکورہ حدیث سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد میں اصل مطمح نظر کی حیثیت آخرت کو حاصل ہوتی ہے۔ دنیا کا اقتدار اس نصب العین کے لیے مفید بھی ہو سکتا ہے اور مضر بھی، بلکہ مضر ہونا زیادہ اقرب ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ انبیاء علیہم السلام کے طریقہ پر کام کرتے ہیں وہ اس اقتدار کو بھی خدا کی ایک بہت بڑی آزمائش سمجھتے ہیں، اور ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جس طرح غربت اور فقر کے دور میں انہیں آخرت کے لیے کام کرنے کی توفیق حاصل ہوئی ہے، اسی طرح امارت و سیادت کے دور میں بھی اس نصب العین پر قائم رہنے کی سعادت حاصل ہو۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں اس امر کا کوئی ادنیٰ نشان بھی نہیں ملتا کہ اقتدار کو انہوں نے اصل نصب العین سمجھا ہو یا اصل نصب العین کے لیے اس کو کوئی بڑی سازگار چیز سمجھا ہو۔

ہماری اس تقریر سے کسی صاحب کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم یہ رہبانیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہم رہبانیت کی دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ اس حقیقت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی تمام جدوجہد کا مقصود آخرت ہوتی ہے، وہ اسی کے لیے خلق خدا کو دعوت دیتے ہیں، اسی کے لیے لوگوں کو منظم کرتے ہیں، اسی کے لیے جیتے ہیں، اور اسی کے لیے مرتے ہیں، اسی چیز سے ان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے، اور اسی چیز پر اس کی انتہا ہوتی ہے، ان کی تمام سرگرمیوں میں محرک کی حیثیت بھی اسی چیز کو حاصل ہوتی ہے، اور غایت و مقصود کی حیثیت بھی اسی کو حاصل ہوتی ہے، وہ دنیا کو آخرت کے منافی نہیں قرار دیتے، بلکہ دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیتے ہیں۔ ان کی دعوت یہ نہیں ہوتی کہ لوگ دنیا کو چھوڑ دیں، بلکہ اس بات کے لیے ہوتی ہے کہ وہ اس دنیا کو آخرت کے لیے استعمال کریں۔

ان کے ہر کام پر ان کے اس نصب العین کے حاوی ہونے کا خاص اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں کسی ایسی چیز کو کبھی گوارا نہیں کرتے جو ان کے اس اعلیٰ نصب العین کی عزت و حرمت کو بٹہ لگانے والی ہو۔ ان کے مقصد کی طرح ان کے وسائل و ذرائع بھی نہایت پاکیزہ ہوتے ہیں۔ وہ کامیابی حاصل کرنے کی دھن میں کبھی ایسی چیزوں کا سہارا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، جن کی پاکیزگی مشتبہ اور مشکوک ہو۔ ان کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرنے والی میزان بھی چونکہ اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ہے، اسی وجہ سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے معیارات بھی عام اہل سیاست کے معیارات سے بالکل مختلف ہیں۔ اہل سیاست کے ہاں تو کامیابی کا معیار ان کے نصب العین کے لحاظ سے یہ ہے کہ ان کو دنیا میں اقتدار حاصل ہو جائے۔ اگر یہ چیز ان کو حاصل نہ ہو سکے تو پھر وہ ناکام و نامراد ہیں، لیکن انبیاء کے طریقہ پر جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی کامیابی کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے کام کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ اسی حالت پر ان کا خاتمہ ہو جائے۔ اگر یہ چیز ان کو حاصل ہوگئی تو وہ کامیاب ہیں، اگرچہ ان کے سایہ کے سوا کوئی ایک متنفس بھی اس دنیا میں ان کا ساتھ دینے والا نہ بن سکا ہو، اور اگر یہ چیز ان کو حاصل نہ ہو سکی تو وہ ناکام ہیں، اگرچہ انہوں نے تمام عرب و عجم کو اپنے اردگرد اکٹھا کر لیا ہو۔

بہرحال ہمارے نزدیک اسلام اور اسلامی زندگی کے احیاء کے لیے کام کرنے والوں کو اہل سیاست کے طریقوں سے کلیۃً پرہیز کرنا چاہیے۔ انہیں حصول اقتدار کی خواہش، ووٹ حاصل کرنے کی غرض اور سیاسی جوڑ توڑ کے ہر شعبہ سے پاک اور بالاتر ہو کر عوام کے پاس صرف ان کی خدمت اور ان کی مذہبی و اخلاقی اصلاح کے لیے جانا چاہیے۔ جو برائیاں اس وقت معاشرے میں عام ہو رہی ہیں ان کے دنیوی اور اخروی نقصانات دلسوزی اور ہمدردی کے ساتھ انہیں بتانے چاہئیں۔ جن فضول قسم کے مذہبی مناقشات میں اس وقت ہمارا دینی طبقہ الجھا ہوا ہے، علماء اور عوام دونوں کو ان کے مضر نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے، اور یہ کام ان لوگوں کو کرنا چاہیے جو خود دینی رنگ میں گہرے طور پر رنگے ہوئے ہوں، اسلام کا نام محض ان کی زبانوں ہی پر نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں بھی اترا ہوا ہو، اور جو صرف لٹریچر اور پروپیگنڈے ہی کو حصول مقصود کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اپنے عمل اور اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیں۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کو حاصل ہوتی ہے اس نصب العین نصب العین کے کی کامیابی کے لیے کام ہوتی ہے کہ اسی کے لیے اہل سیاست دنیا میں کرتے ہیں دیتے ہیں کی حیثیت ہے کہ وہ ہے کہ ان کرنے کی ہوتا ہے کی دعوت دنیا کو اور اسی رہے ہیں ہے کہ ا بھی اس اور اس چیز ان کے دین اس بات بلکہ ا

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی