امریکی انتظامیہ کا وینزویلین صدر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ، نکولس کا صاف انکار
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
واشنگٹن(ویب ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ اوروینزویلا کے درمیان مذاکرات جاری رہے۔
امریکا انتظامیہ نے وینزویلین صدر کو اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا، اقتدار چھوڑنے کے بدلے کسی امیر عرب ملک منتقلی کی پیش کش کر دی۔
نکولس مادورو نے اقتدار چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کہتے ہیں مادورو حکومت کو جائز نہیں کہا جاسکتا۔
واضح رہے کہ وینزویلا نے امن کیلئے امریکی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا تا، انہوں نے گزشتہ روز اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وینزویلا امن کے لئے امریکی غلامی کو قبول نہیں کرے گا، انہوں نے کہا کہ ہم خودمختاری، برابری اور آزادی کے ساتھ امن چاہتے ہیں،ہم امن کے لئے غلامی یا امریکی نوآبادی نہیں بننا چاہتے ، ہم نہ کبھی کالونی بنیں گے اور نہ ہی غلام بنیں گے۔
نکولس مادورو کا کہنا تھا کہ 22 ہفتوں پر محیط امریکی فوجی جارحیت کو نفسیاتی دہشت گردی قرار دیا، انہوں نے کہا کہ قومی طاقت کا سرچشمہ عوام کی شمولیت ہے، جو عوام کی بے پناہ قوت، ان کے شعور، اداروں، ہتھیاروں اور ہر مشکل میں وطن کی تعمیر کے عزم سے تشکیل پاتی ہے اور ان کے خیال میں اسی مضبوط سماجی ڈھانچے کی بدولت ملکی طاقت ناقابلِ تسخیر، دائمی اور مستقل بن جاتی ہے۔
وینزویلا کے صدر نے مزید کہا تھا کہ ان کا مقصد وقار کے ساتھ امن کا تحفظ ہے جس کے لئے ملک کی سیاسی خودمختاری کا دفاع ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقتدار چھوڑنے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔