نیلم ویلی کے جنگلات میں آگ: قیمتی دیودار، جڑی بوٹیاں اور جنگلی حیات شدید خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
نیلم ویلی کے گھنے جنگلات اس وقت شدید آگ کی لپیٹ میں ہیں اور شعلوں نے متعدد پہاڑی ڈھلوانوں کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ جنگل میں بھڑکتی ہوئی یہ آگ قیمتی درختوں کے ساتھ ساتھ ان نایاب جڑی بوٹیوں کو بھی جلا رہی ہے جو اس خطے کی پہچان ہیں۔ خشک پتوں، گھاس اور پہاڑی ڈھلوانوں پر جمی سوکھی تہہ نے آگ کو مزید تیز کر دیا ہے۔
آگ نہ صرف پودوں اور درختوں کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ جنگل میں بسنے والی جنگلی حیات کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔ پرندوں کے گھونسلے جل کر تباہ ہو رہے ہیں۔ پہاڑی جانور اپنے ٹھکانے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہیں اور کئی نایاب اقسام کی جڑی بوٹیاں، پودے اور چھوٹے جاندار اس آگ میں ختم ہو رہے ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ گزشتہ 4 روز سے مختلف مقامات پر آگ مسلسل بھڑک رہی ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر پہاڑی علاقوں میں وسائل اور تربیت کی کمی کے باعث ان کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: وادی نیلم میں ایک اور کار حادثہ، خاتون سمیت 2 افراد ہلاک
مقامی آبادی اس تباہ کن صورتحال کو بے بسی سے دیکھ رہی ہے کیونکہ سرکاری اداروں کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ نیلم ویلی کے جنگلات نقصان کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ چند ماہ پہلے مون سون کے دوران اربوں روپے مالیت کی قیمتی لکڑی سیلابی ریلوں کے ساتھ دریائے نیلم میں بہہ گئی تھی۔
اس وقت بھی یہی سوال اٹھا تھا کہ اگر جنگلات کی صحیح نگرانی نہیں ہوگی تو آنے والے برسوں میں یہ خطہ اپنے قدرتی سرمائے سے محروم ہو جائے گا۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو نیلم ویلی کے وہ جنگلات جو اس علاقے کی فضا کو صاف اور ماحول کو معتدل رکھتے ہیں چند ہی برس میں ختم ہو سکتے ہیں۔
ماہر ماحولیات ڈاکٹر رفیق کا کہنا ہے کہ نیلم ویلی ویسے بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی براہِ راست زد میں ہے بارشوں کے بگڑتے نظام اور طویل خشک سالی نے خطے کے قدرتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: وادی نیلم کے ٹھنڈے اور حسین نظارے دیکھنے کے لیے سیاحوں کا رش
وزیرِ جنگلات سردار جاوید ایوب نے چند دن قبل ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جنگلات کو آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ اضافی فائرمین تعینات کر رہا ہے جبکہ چھوٹے فائر ٹینڈر بھی خریدے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات فوری ردِعمل کی صلاحیت بڑھائیں گے اور آنے والے دنوں میں محکمہ ایسے واقعات پر زیادہ مؤثر انداز میں قابو پا سکے گا۔
مقامی لوگ بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ جنگلات کا تحفظ صرف بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے ممکن ہوگا۔ اگر اس آگ کو نہ روکا گیا اور جنگلات کی بقا کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو نیلم ویلی کی خوبصورتی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیات سب کچھ آئندہ نسلوں کے لیے محض کہانی بن کر رہ جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنگلات میں آگ جنگلی حیات قیمتی دیودار، جڑی بوٹیاں نیلم ویلی وزیرِ جنگلات سردار جاوید ایوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنگلات میں آگ جنگلی حیات نیلم ویلی نیلم ویلی کے رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔