پنجاب میں حنوط شدہ پرندوں کی فروخت، جنگلی حیات کے کارکنوں کا تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پنجاب کی موٹرویز پر واقع متعدد ٹک شاپس میں حنوط شدہ شاہین، عقاب اور دیگر شکاری پرندے فروخت کئے جانے پر جنگلی حیات کے تحفظ کے کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہارکیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے یہ پرندے صوبائی وائلڈ لائف قوانین کے تحت محفوظ اور کئی اقسام معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں، اس کے باوجود سرکاری سروس ایریاز میں ان کی نمائش اور خرید و فروخت جاری ہے۔
ڈاکٹر کامران عابد (جو پنجاب ہاکنگ کلب سے وابستہ ایک فیلکنر اور شکاری پرندوں کے تحفظ کے ماہر ہیں) انہوں نے بتایا کہ کسی بھی جنگلی جانور/ پرندے کو حنوط کرنے کے لیے اس کا مرنا ضروری ہوتا ہے، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ نایاب شکاری پرندوں کو منظم انداز میں مار کر ان کی تجارت کی جا رہی ہے۔ مبینہ طور پر یہ سلسلہ نہ صرف وسیع پیمانے پر جنگلی حیات کے نقصان کا باعث بن رہا ہے بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کے توازن کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے، کیونکہ شکاری پرندے چوہوں، سانپوں اور دیگر انواع کی آبادی کو قابو میں رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے وزیراعلی پنجاب ،پنجاب کی سینئروزیر مریم اورنگزیب اور وائلڈلائف رینجرز پنجاب سے مطالبہ کیا ہے اس کی تحقیقات کروائی جائیں کہ ان حنوط شدہ پرندوں کی سپلائی کون کر رہا ہے اور موٹروے سروس ایریاز میں کھلے عام یہ کاروبار کیسے جاری ہے۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ متعلقہ اداروں کی غفلت کا بھی پتہ دیتی ہے۔
اس معاملے پر فوری اقدامات کی درخواست کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ موٹرویز پر موجود تمام دکانوں سے بھرے ہوئے شکاری پرندوں کی ضبطی کے لیے ہنگامی کارروائی کی جائے، سپلائرز اور شکار میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کی جائیں اور دکان داروں سمیت تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
پنجاب وائلڈلائف حکام کے مطابق جس طرح زندہ جنگلی جانوروں اورپرندوں کو رکھنے کے لئے لائسنس ضروری ہے اسی طرح حنوط شدہ جنگلی جانوروں اورپرندوں کی خرید وفروخت کے لئے لائسنس لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ دکاندار کو یہ ریکارڈ بھی فراہم کرنا ہوگا کہ اس نے حنوط کیا ہوا جانور،پرندہ کس سے خریداتھا۔ غیرقانونی طور پر ایسا کاروبارکرنیوالوں کیخلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پرندوں کی
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔