سرکاری افسران کی رہائش گاہوں میں جدید برقی نظام نصب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
علی رامے: موسمی خطرات سے نمٹنے کیلئے سرکاری افسران کی رہائش گاہوں میں جدید برقی نظام نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، تاکہ ایمرجنسی صورتحال میں بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
لاہور میں جی او آر ون (گورنمنٹ آف پاکستان ریزیڈنسی کمپلیکس) کے افسران کی رہائش گاہوں میں بجلی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 1.66 ارب روپے کے فنڈز منظور کیے گئے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد بارشوں اور دیگر موسمی خطرات کے دوران بجلی کی بندش کو روکنا ہے, پی اینڈ ڈی بورڈ نے اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت جدید برقی تنصیبات کی تنصیب اور اپگریڈیشن کی جائے گی۔
سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک
یہ منصوبہ جی او آر ون میں زیرِ زمین کیبلنگ، نکاسی آب کے نظام، اور سب سٹیشنز کی اپگریڈیشن پر مرکوز ہوگا، تاکہ کسی بھی موسمی شدت میں بلا رکاوٹ بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
اس اپگریڈیشن کے ذریعے موسم کے اثرات کے باوجود افسران کی رہائش گاہوں میں بجلی کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور سسٹم کی کارکردگی بہتر ہو گی۔
یہ اقدام نہ صرف سسٹم کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ لاہور میں رہائشی علاقے میں بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے گا، جو کسی بھی قدرتی آفات یا موسم کی شدت کے دوران اہمیت رکھتا ہے۔
دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔