پاکستان میں اسلام آباد لاہور موٹروے پر جدید موسمی الرٹ سسٹم نصب کرنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان اپنی جدید ترین روڈ ویذر الرٹ سسٹم کو اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جو ‘ویدر آن دی وے’ کے تحت عمل میں آئے گا۔
یہ شراکت داری ویدر وَن اور وَن نیٹ ورک نامی کمپنی کے درمیان خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے، جو ایک اہم سڑک پر ہائپر لوکل موسمی معلومات فراہم کرے گی، جہاں ہر سال لاکھوں مسافر سفر کرتے ہیں اور جو مختلف موسمی زونز سے گزرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سولر سسٹمز کی پیداوار گرڈ کی طلب سے تجاوز کرجائے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی
اس سسٹم کا مقصد مسافروں کو درست اور حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ سڑک پر محفوظ اور بہتر فیصلے کر سکیں۔
ٹیکنالوجی نیٹ ورک میں 14 خودکار موسمی اسٹیشنز، 5 مخصوص فضائی معیار کے سینسر، 4 ویزیبلٹی سینسر، سیٹلائٹ فیڈز اور موسمی پیشن گوئیاں شامل ہیں۔ یہ تمام معلومات ایک ڈیسیژن سپورٹ انجن کے ذریعے پروسیس کی جاتی ہیں جو دھند، بارش، ہوا، کم دیکھائی دینے والی صورتحال اور دیگر تیزی سے بدلتی ہوئی حالتوں کو ٹریک کرتا ہے۔
پھر یہ معلومات مسافروں تک اسمارٹ فون ایپلیکیشنز، ویب پلیٹ فارمز اور ٹول پلازوں پر نصب ایس ایم ڈی ڈسپلے اسکرینز کے ذریعے پہنچائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی پر کام شروع، قیمتوں میں کتنی کمی کا امکان ہے؟
یہ اقدام پاکستان میں روڈ موسمی معلومات کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ پہلی بار روڈ آپریٹرز، سرکاری ادارے اور ڈرائیور ایک ہی حقیقی وقت کی موسمی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جو راستے کی منصوبہ بندی، خطرات کی تیاری اور بہتر فیصلہ سازی میں مددگار ثابت ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیکنالوجی موٹروے موسم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :