Islam Times:
2026-07-24@03:46:12 GMT

مظلوم کشمیری بدترین بھارتی غلامی کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

مظلوم کشمیری بدترین بھارتی غلامی کا شکار

قابض فورسز مقامی معیشت اور زراعت کے شعبے کی ترقی اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے کشمیری بڑے پیمانے پر غربت، مایوسی اور خوف و دہشت کا شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آج جب دنیا بھر میں "غلامی کے خاتمے" کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، بھارت نے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو مسلسل غلام بنا رکھا ہے۔ اس دن کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی تسلط کے تحت لاکھوں کشمیری مسلسل غلامی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں اپنے فوجی اور ہندوتوا ایجنڈے کو مضبوط کر رہا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ غلاموں اور دشمن دونوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کو 1846ء سے 1947ء تک ڈوگرہ راج کے تحت جبری مشقت اور بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 1947ء کے بعد بھی ان پر وحشیانہ مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ میں دعوی ٰکیا گیا ہے کہ اگست 2019ء میں دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ علاقے کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے اور کشمیریوں کو اب ظالمانہ قوانین کے تحت مناسب معاوضے یا بنیادی سہولتوں کے بغیر بی جے پی حکومت اور قابض فوج کیلئے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج، پیراملٹری اور پولیس اہلکار بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں این آئی اے اور ایس آئی اے کی جابرانہ کارروائیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی سماجی اور معاشی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قابض فورسز مقامی معیشت اور زراعت کے شعبے کی ترقی اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے کشمیری بڑے پیمانے پر غربت، مایوسی اور خوف و دہشت کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیری نوجوان، مرد،خواتین اور بچے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور گھروں پر چھاپے کشمیریوں کی غلامی کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران کشمیری خواتین کا جنسی استحصال بھی غلامی کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔

رپورٹ میں نیشنل کانفرنس کے رہنمائوں بشمول وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے توازن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں منتخب عوامی حکومت بے اختیار اور تمام تر اختیارات بھارت کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن چودھری محمد رمضان نے بھی واضح طور پر کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور حقیقی طاقت لیفٹیننٹ گورنر کو حاصل ہے۔ وزیراعلی عمر عبداللہ نے اختیارات کے دوہرے مراکز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے منتخب حکومت سے اس کے تمام تر اختیارت چھین لئے ہیں اور مقبوضہ علاقے کا تمام تر انتظام گورنر ہائوس کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
ا
دھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے پھیلائے گئے خوف و دہشت کے ماحول پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ علاقے میں جدید دور کی غلامی ختم کرنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ بھارتی فوجی کشمیریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جرائم میں ملوث ہیں اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے والے کشمیریوں کو بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

حریت ترجمان نے گزشتہ روز ایک ہندو طالب علم کی توہین آمیز ویڈیو پوسٹ کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کرنے پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مودی کی زیر قیادت ہندوتوا بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر مقبوضہ کشمیر کو اس کے عوام کیلئے ایک جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مقبوضہ علاقے میں رپورٹ میں انہوں نے کے تحت رہا ہے گیا ہے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق