Islam Times:
2026-06-03@01:55:13 GMT

مظلوم کشمیری بدترین بھارتی غلامی کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

مظلوم کشمیری بدترین بھارتی غلامی کا شکار

قابض فورسز مقامی معیشت اور زراعت کے شعبے کی ترقی اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے کشمیری بڑے پیمانے پر غربت، مایوسی اور خوف و دہشت کا شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آج جب دنیا بھر میں "غلامی کے خاتمے" کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، بھارت نے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو مسلسل غلام بنا رکھا ہے۔ اس دن کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی تسلط کے تحت لاکھوں کشمیری مسلسل غلامی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں اپنے فوجی اور ہندوتوا ایجنڈے کو مضبوط کر رہا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ غلاموں اور دشمن دونوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کو 1846ء سے 1947ء تک ڈوگرہ راج کے تحت جبری مشقت اور بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 1947ء کے بعد بھی ان پر وحشیانہ مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ میں دعوی ٰکیا گیا ہے کہ اگست 2019ء میں دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ علاقے کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے اور کشمیریوں کو اب ظالمانہ قوانین کے تحت مناسب معاوضے یا بنیادی سہولتوں کے بغیر بی جے پی حکومت اور قابض فوج کیلئے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج، پیراملٹری اور پولیس اہلکار بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں این آئی اے اور ایس آئی اے کی جابرانہ کارروائیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی سماجی اور معاشی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قابض فورسز مقامی معیشت اور زراعت کے شعبے کی ترقی اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے کشمیری بڑے پیمانے پر غربت، مایوسی اور خوف و دہشت کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیری نوجوان، مرد،خواتین اور بچے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور گھروں پر چھاپے کشمیریوں کی غلامی کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران کشمیری خواتین کا جنسی استحصال بھی غلامی کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔

رپورٹ میں نیشنل کانفرنس کے رہنمائوں بشمول وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے توازن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں منتخب عوامی حکومت بے اختیار اور تمام تر اختیارات بھارت کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن چودھری محمد رمضان نے بھی واضح طور پر کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت مکمل طور پر بے اختیار ہے اور حقیقی طاقت لیفٹیننٹ گورنر کو حاصل ہے۔ وزیراعلی عمر عبداللہ نے اختیارات کے دوہرے مراکز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے منتخب حکومت سے اس کے تمام تر اختیارت چھین لئے ہیں اور مقبوضہ علاقے کا تمام تر انتظام گورنر ہائوس کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
ا
دھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے پھیلائے گئے خوف و دہشت کے ماحول پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ علاقے میں جدید دور کی غلامی ختم کرنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ بھارتی فوجی کشمیریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جرائم میں ملوث ہیں اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے والے کشمیریوں کو بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

حریت ترجمان نے گزشتہ روز ایک ہندو طالب علم کی توہین آمیز ویڈیو پوسٹ کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کرنے پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مودی کی زیر قیادت ہندوتوا بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر مقبوضہ کشمیر کو اس کے عوام کیلئے ایک جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مقبوضہ علاقے میں رپورٹ میں انہوں نے کے تحت رہا ہے گیا ہے

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد