نائیجیریا: اغوا کی گئی 24 طالبات کو رہا کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں ایک سرکاری بورڈنگ اسکول سے گزشتہ ہفتے اغوا کی گئی 24 طالبات کو رہا کردیا گیا۔ صدر بولا ٹینوبو نے لڑکیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ باقی مغویوں کو چھڑوانے کے لیے کارروائیاں تیز کی جائیں۔ صدر ٹینوبو نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تمام 24 طالبات مل گئی ہیں، اب فوری طور پر حساس علاقوں میں مزید سیکورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ اغوا کے مزید واقعات روکے جا سکیں۔ یاد رہے کہ ان طالبات کو 17 نومبر کو مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ شمالی نائیجیریا میں تاوان کے لیے اجتماعی اغوا کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ مسلح گروہ اسکولوں اور دیہی بستیوں پر حملہ کر کے مقامی سیکورٹی کو آسانی سے مغلوب کر دیتے ہیں۔ منگل کے روز ایک اور واقعے میں مغربی ریاست کوارا کے گاؤں اساپا سے 10 خواتین اور بچوں کو بھی اغواکر لیا گیاتھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور چرواہوں کے ایک گروہ سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے چھاپے کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی۔ حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر اغوا کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جمعہ کے روز شمالی وسطی ریاست نائیجر میں ایک کیتھولک اسکول پر حملے میں 300 سے زائد طلبہ اور عملہ اغواکر لیا گیا، جن میں سے 50 نے فرار ہو کر جان بچائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔