Jasarat News:
2026-06-02@22:35:22 GMT

نائیجیریا میں اغوا شدہ 24 طالبات کو بازیاب کروا لیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

نائیجیریا میں اغوا شدہ 24 طالبات کو بازیاب کروا لیا گیا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں سرکاری بورڈنگ اسکول سے اغوا کی گئی 24 طالبات کو رہا کردیا گیا۔

صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں واقع سرکاری بورڈنگ اسکول سے اغوا کی گئی 24 طالبات کو گزشتہ ہفتے بازیاب کرا لیا گیا، جسے صدر بولا ٹینوبو نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

 صدارتی اعلامیے منگل کو صدر نے طالبات کی حفاظت اور ان کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز سے تاکید کی کہ باقی مغویوں کو بھی جلد بازیاب کرانے کے لیے فوری اور مؤثر کارروائیاں کی جائیں۔

صدر ٹینوبو نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تمام 24 طالبات محفوظ واپس آگئی ہیں۔ اب فوری طور پر حساس علاقوں میں اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ مزید اغوا کے واقعات کو روکا جا سکے۔‘‘

یہ طالبات 17 نومبر کو مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء کی گئی تھیں۔ شمالی نائیجیریا میں اسکولوں اور دیہی بستیوں پر تاوان کے لیے اجتماعی اغوا کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، جہاں مسلح گروہ مقامی سیکیورٹی فورسز کو بآسانی مغلوب کر کے طلبہ اور شہریوں کو ہتھکڑیاں پہنا دیتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اس قسم کے بڑے پیمانے پر اغوا کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جمعے کو شمالی وسطی ریاست نائیجر میں ایک کیتھولک اسکول پر حملے کے دوران 300 سے زائد طلبہ اور عملہ اغواء کر لیے گئے، جن میں سے 50 افراد فرار ہو کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔

یہ واقعات نائیجیریا میں تعلیم کے شعبے اور بچوں کی حفاظت کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا واضح ثبوت ہیں اور حکومت پر اس امر کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں کہ وہ مؤثر حفاظتی اقدامات کرے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا