اے وی سی سی کارروائی، ڈاکوؤں کے قبضے سےمغوی بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک)اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس نے 5 ماہ قبل سستا اسکریپ فروخت کرنے کا جھانسہ دیکر اندرون سندھ گھوٹکی میں کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے مغوی شخص کو بازیاب کرالیا۔
ترجمان اے وی سی سی پولیس کے مطابق رواں سال 21 جون کو کراچی کے علاقے قائد آباد سے 70 سالہ محمد معین الدین کو سستا اسکریپ فروخت کرنے کا جھانسہ دیکر اندرون کچے کے علاقے گھوٹکی میں بلا کر اغوا کیا گیا تھا جس کی رہائی کے عوض 2 کروڑ روپے ، 2 راڈو گھڑیاں اور 2 آئی فون کا تاوان طلب کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق قائد آباد تھانے میں مغوی کے اغوا کا مقدمہ نمبر 373 سال 2025 بجرم دفعہ 365 اے کے تحت درج کیا گیا تھا جس کی تفتیش اے وی سی سی پولیس کو منتقل کی گئی تھی جس پر ایک پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔
ٹیم نے کئی دنوں کی سخت جدوجہد کے بعد ٹیکنیکل اور خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات پر مغوی معین الدین کو بحفاظت بازیاب کرالیا جبکہ مغوی اور اس کے اہلخانہ نے اے وی سی سی پولیس شکریہ ادا کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: بچی کیساتھ زیادتی و قتل کے ملزم کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت، اہلخانہ کا لاش لینے سے انکار
فائل فوٹوکراچی کے علاقے جیکسن میں 6 سالہ بچی کے قتل اور زیادتی میں ملوث ملزم گزشتہ روز پولیس مقابلے میں مارا گیا، اہلخانہ نے ملزم کی میت وصول کرنے سے انکار کردیا۔
ترجمان ایدھی کا کہنا ہے کہ اہلخانہ نے ملزم کی میت وصول کرنے سے انکار کردیا، میت کو مواچھ گوٹھ قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش گزشتہ روز جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ بچی دو روز قبل لاپتا ہوئی تھی، گزشتہ روز اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔