لندن (نیوز ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی جریدے بلومبرگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ سال 2025 میں ایشیا کی سب سے کمزور اور بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی کرنسی کی مسلسل گراوٹ نے نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کمزور بنیادیں بھی بے نقاب کر دی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق ’’شائننگ انڈیا‘‘ کے دعوؤں اور زمینی حقائق میں نمایاں تضاد اب کھل کر سامنے آ چکا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے کی دیگر کرنسیاں، جن میں تائیوان، ملائیشیا اور تھائی لینڈ شامل ہیں، مستحکم رہیں جبکہ بھارتی روپیہ مسلسل تنزلی کی طرف بڑھتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیرف میں اضافے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے انخلاء اور داخلی پالیسیوں نے بھارتی روپے کو شدید دباؤ کا شکار رکھا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اب تک بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے 16 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ نکال چکے ہیں، جس نے مقامی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ویزا پروگرام کی فیس کو ایک لاکھ ڈالر تک بڑھانے کی حکومتی تجویز نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید متزلزل کر دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی ریزرو بینک جولائی سے اب تک 30 ارب ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنے کے باوجود روپے کو مستحکم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، مہنگی درآمدات اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد نے بھارتی معیشت کو سنگین دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت کے معاشی ماڈل کی کمزوریاں اور غیر حقیقت پسندانہ پالیسیاں اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے بھارت کو خطے کی کمزور ترین معاشی صف میں لا کھڑا کیا ہے، جبکہ مودی حکومت کی جانب سے بروقت اور موثر معاشی اصلاحات نہ کیے جانے کی صورت میں یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق دیا ہے گیا ہے

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے