پاکستان کی فرنس آئل کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، اضافے کا امکان WhatsAppFacebookTwitter 0 28 November, 2025 سب نیوز

پاکستان کی فرنس آئل کی برآمدات رواں سال تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ سال یہ مزید بڑھ سکتی ہیں۔ صنعتی ذرائع نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی فرنس آئل (فیول آئل) کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں، توقع ہے کہ اگلے سال بھی یہ برآمدات اسی سطح پر رہیں گی یا اس میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ حکومت نے اس پر مقامی ٹیکس بڑھا دیے ہیں اور بجلی گھر فرنس آئل کے بجائے صاف توانائی کے ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

تاجروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی برآمدات بڑھنے سے ایشیا میں فیول آئل کی فراہمی بہت زیادہ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں پر دبا پڑ رہا ہے۔کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی فرنس آئل برآمدات اس سال نئی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اب تک 14 لاکھ ٹن (تقریبا 89 لاکھ بیرل) سے زیادہ فرنس آئل برآمد کر چکا ہے

، جو 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے، جب کہ زیادہ تر برآمدات جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطی بھیجی گئیں۔ایل ایس ای جی کے مطابق 2025 میں اب تک 13 لاکھ 30 ہزار ٹن برآمد ہو چکی ہیں، جو گزشتہ سال کی 11 لاکھ 10 ہزار ٹن سے زیادہ ہے۔ذرائع کے مطابق زیادہ تر بھیجا جانے والا فرنس آئل ہائی سلفر (ایچ ایس ایف او) تھا، جسے زیادہ تر بحری جہاز ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جب کہ تھوڑی مقدار ریفائنریوں میں خام مال کے طور پر استعمال ہوئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنومبر میں نیلا آسمان نظر آنا کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے: مریم اورنگزیب نومبر میں نیلا آسمان نظر آنا کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے: مریم اورنگزیب تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور سری لنکا میں سیلابی صورتحال، ہلاکتوں کی تعداد 256 ہوگئی اڈیالہ جیل کو پارٹی ہیڈکوارٹر بنانا غیرقانونی سمجھا گیا: پرویز رشید عمران خان صحتمند ہیں، اڈیالہ جیل آنے والے ہر شخص کی ان سے ملاقات کروائی جاتی ہے: جیل ذرائع پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ ترک کر کے ریاست و عوام کا مفاد مقدم رکھے: عطاء اللہ تارڑ وادی تیراہ میں خوارج دہشتگردوں کی بڑھتی سرگرمیاں پشاور کے لیے بڑا خطرہ بن گئیں TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان کی فرنس آئل سطح پر پہنچ کی برآمدات آئل کی

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف