Islam Times:
2026-06-03@05:33:00 GMT

دنیا میں طاقت کے بدل رہے ہیں اور بدل چکے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

دنیا میں طاقت کے بدل رہے ہیں اور بدل چکے ہیں

اسلام ٹائمز: توانائی کے شعبے میں روس اور بھارت کا تعاون موجودہ جیوپولیٹیکل حالات کے باوجود بغیر کسی تبدیلی کے برقرار ہے۔ پوٹین کے مطابق، کچھ عالمی طاقتیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے خوش نہیں ہیں، خصوصاً بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات کے باعث، اور وہ اس کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پوٹین نے کہا کہ روس اور بھارت دونوں اس بات سے واقف ہیں کہ باہمی تجارت میں عدم توازن موجود ہے، لیکن بھارت نے کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کیونکہ بھارت کو روسی وسائل کی ضرورت ہے۔ خصوصی رپورٹ:

روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں، بھارت اور چین روس کے قریبی ترین دوست ہیں اور ماسکو کے ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے "نووستی" کے مطابق ولادیمیر پوٹین نے "انڈیا ٹوڈے" میگزین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئی طاقتوں کے مراکز ابھر رہے ہیں،  ایسے حالات میں بڑی طاقتوں کے درمیان استحکام برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہی استحکام دو طرفہ بین الاقوامی تعلقات کی مضبوط بنیاد بنتا ہے۔

پوٹین کے مطابق آج کی دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور عالمی نظام کی مجموعی ساخت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، دنیا میں تیزی سے ابھرتے ہوئے نئے مراکز تشکیل پا رہے ہیں، خصوصاً جنوبی دنیا (گلوبل ساؤتھ) تیزی سے ترقی کر رہی ہے، میری مراد جنوبی ایشیا ہے، صرف بھارت ہی نہیں بلکہ انڈونیشیا بھی مضبوطی سے ابھر رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سلسلے میں بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ مشترکہ تعاون نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ تعاون صرف دو طرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتا، اگرچہ دنیا ہمیشہ تبدیل ہوتی رہی ہے مگر تبدیلی کی موجودہ رفتار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ان کے مطابق مستقبل میں بھی عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیاں تیز ہوں گی اور اس عمل کا انحصار نہ یوکرین کی صورتحال پر ہے اور نہ اس کا تعلق دنیا کے باقی تنازعات سے ہے، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کا مقصد کبھی بھی دوسروں کی ترقی روکنا نہیں رہا، اور اس تنظیم کا ایجنڈا ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ انٹرویو میں پوٹین نے زور دے کر کہا کہ بھارت اور چین روس کے نزدیک ترین دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین ہمارے سب سے قریبی دوست ہیں، ہم ان تعلقات کی بہت قدر کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ بھارت اور چین کے رہنما اپنی بصیرت کی بنیاد پر باہمی اختلافات کے حل کے لیے راستہ نکال لیں گے۔

بھارت روس تجارتی تعلقات:
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں روس اور بھارت کا تعاون موجودہ جیوپولیٹیکل حالات کے باوجود بغیر کسی تبدیلی کے برقرار ہے۔ پوٹین کے مطابق، کچھ عالمی طاقتیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے خوش نہیں ہیں، خصوصاً بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات کے باعث، اور وہ اس کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پوٹین نے کہا کہ روس اور بھارت دونوں اس بات سے واقف ہیں کہ باہمی تجارت میں عدم توازن موجود ہے، لیکن بھارت نے کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کیونکہ بھارت کو روسی وسائل کی ضرورت ہے۔

پوٹین کے مطابق بھارت کو روسی تیل، تیل کی مصنوعات اور کیمیائی کھاد کی ضرورت ہے، روس اور بھارت اس بات پر متفق ہیں کہ تجارتی عدم توازن کو دور ہونا چاہیے، لیکن پابندیوں کے ذریعے نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ روسی تیل کی برآمدات بھارت کو مسلسل جاری ہیں، اور روسی شراکت دار بھارتی کمپنیوں کو انتہائی قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔ پوٹین نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ روسی ایندھن خرید سکتا ہے تو بھارت کو بھی ایسا کرنے کا حق ہے۔ پوٹین کا کہنا تھا کہ میں کبھی دوسرے عالمی رہنماؤں پر تبصرہ نہیں کرتا، نریندر مودی کبھی بھی اپنی پالیسی کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بناتے، بلکہ ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی نیک نیتی پت مبنی فیصلہ سازی:
جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں رائے مانگی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ کبھی کسی دوسرے رہنما کی کارکردگی پر تبصرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کا سربراہ اپنی قومی دلچسپی کے مطابق کام کرتا ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور وہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک نیتی رکھتے ہیں۔ 

فلسطین کے مسئلے کا واحد حل، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل:
پوٹین نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل وہ قراردادیں ہیں جو سالوں سے اقوام متحدہ میں منظور کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ہے۔ انہوں نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو تمام مسائل کا کلیدی حل قرار دیا۔

ذمہ دار افغانستان:
پوٹین نے کہا کہ افغانستان کی حکومت دہشت گردی اور منشیات کے خلاف نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو دیگر ممالک کی طرح اپنی مشکلات کا سامنا ہے، وہ داعش اور دیگر گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پوٹین نے آخر میں کہا کہ روس، بھارت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل حمایت کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ روس اور بھارت بھارت اور چین کر رہی ہے کہ بھارت بھارت کے بھارت کو دنیا میں رہے ہیں تیزی سے کے خلاف کے ساتھ رہی ہیں ہے اور اس بات ہیں کہ کہ روس روس کے

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا