لاہور ہائیکورٹ: 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں ترمیم کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 3 رکنی فل بینچ نے 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔
مذکورہ 3 رکنی بینچ میں جسٹس جواد حسن اور جسٹس سلطان تنویر بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم، آئینی عدالت کے قیام سے متعلق اہم نکات سامنے آگئے
درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ترمیم آئین کے دیباچے کیخلاف ہے۔
ان کے مطابق، اس سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی کی کوشش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: عدالتی نظام درست کرنے کے لیے آئینی ترمیم وقت کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو
وکیل نے مزید کہا کہ ترمیم سے عدالتی آزادی کو خطرہ لاحق ہوا اور صوبوں کی مشاورت کے بغیر آئینی ڈھانچے کو متاثر کیا گیا ہے۔
عدالت نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کوآئین کے آرٹیکل 174 کو پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے بتایا کہ آئین کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو لازمی طور پر فریق بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: آئینی ترمیم کا مقصد عمران خان کو فوجی عدالتوں سے سزا دلوانا ہے،,سلمان اکرم راجا
وکیل اظہر صدیق نے عدالت سے متعلقہ فریق کو ہاتھ سے لکھ کر شامل کرنے کی درخواست کی۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس کیس میں ہاتھ سے لکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: 27 ویں ترمیم کے خلاف کنونشن بدمزگی کا شکار، کیا وکلا تقسیم ہیں؟
عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ درخواست آئینی ترامیم کو چیلنج کرتی ہے، اس لیے اس پر سماعت بھی آئین کے مطابق ہی ہوگی۔
عدالت نے درخواست میں ترمیم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی ترمیم آئینی ڈھانچے اظہر صدیق بینچ جسٹس صداقت علی خان عدالتی آزادی لاہورہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئینی ڈھانچے جسٹس صداقت علی خان عدالتی آزادی لاہورہائیکورٹ عدالت نے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔