26ویں اور 27ویں ترمیم کے باعث ایک اورجج مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: 26ویں اور 27ویں ترمیم کے باعث ایک اور جج مستعفی۔ لاہور کے سول جج کے مطابق میں وہ آخری شخص ہوں گا جو آمریت کو سپورٹ کروں گا، اعلی عدلیہ ملک کے لیے کبھی باعث فخر نہیں بنی۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ سے استعفے آنے کا سلسلہ جاری ہے، لاہور کی سول عدالت کے جج نے بھی استعفا دے دیا۔سول جج سید جہانزیب بخاری نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا، استعفا میں ا نہوں نے لکھا کہ 26 اور 27 ویں ترمیم کی وجہ سے عہدے سے استعفا دے رہا ہوں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ میں وہ آخری شخص ہوں گا جو آمریت کو سپورٹ کروں گا، اعلی عدلیہ ملک کے لیے کبھی باعث فخر نہیں بنی،ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر انصاف کرے۔
دریں اثنا سول جج سید جہانزیب بخاری کے استعفا پر لاہور ہائیکورٹ کا ردعمل آگیا، ترجمان لاہور ہائیکور ٹ کا کہنا ہے کہ سول جج سید جہانزیب بخاری نے مسلسل غیر حاضری پر محکمانہ و انضباطی کارروائی کے بعد استعفا دیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سول جج سید جہانزیب بخاری اپنی ڈیوٹی سے مسلسل دانستہ طور پر غیر حاضر رہے، جج کی طویل غیر حاضری اور ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر انضباطی کاروائی شروع کی گئی۔
ترجمان کے مطابق انتظامی کمیٹی کارروائی کے فیصلے کے بعد سول جج نے مبینہ استعفا سوشل میڈیا پر جاری کیا، ہائیکورٹ میں استعفا تاحال موصول نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ملک کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ ، سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ سمیت لاہور ہائیکورٹ کے جج بھی مستعفی ہو چکے۔ جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی جلد ججز کے مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سول جج سید جہانزیب بخاری
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔