بلوچستان، وکلاء برادری کا 27ویں آئینی ترمیم کیخلاف تحریک چلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
تحریک کیلئے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات سے ملاقات کرینگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کی وکلاء برادری نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کیلئے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ آل بلوچستان وکلاء نمائندگان کیجانب سے منعقدہ کانفرنس میں 27ویں آئینی ترمیم اور ملک گیر وکلاء تحریک پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان میں وکلاء تحریک کو فعال بنانے کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، سول سوسائٹی، طلباء تنظیموں، خواتین، تاجر برادری، مزدور تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرنے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں وکلاء ایکشن کمیٹی موجودہ و سابق عہدیداران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے چیئرمین علی احمد کرد، جبکہ ممبران میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدور کامران مرتضٰی، امان اللہ کنرانی کے علاوہ بلوچستان ہائیکورٹ کے دیگر وکلاء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک کوآرڈینیشن کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے رابطہ کریں گے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر وکلاء تحریک کامیابی سے جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: 27ویں آئینی ترمیم
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔